انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 52

۵۲ تعداد نہ ماننے والوں سے اتنے عرصہ میں زیادہ نہیں کر سکے اور اس کا آپ کی صداقت پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا تو اس زمانہ میں خدا نے جو مأمور بھیجا ہے اور جو آپ کے خادموں میں سے ایک خادم ہے اور جس نے آپ سے بڑائی کادعویٰ نہیں کیا اس کے لئے کیو نکر کہہ سکتے ہیں کہ اس کے ماننے والوں کو ابھی سے ظاہری غلبہ حاصل ہو جائے۔پھر حضرت مسیح ناصری سے کیا ہو اکیا وہ اپنی زندگی میں دیکھ سکے کہ ان کے ماننے والے اپنے دشمنوں پر غالب آگئے۔ہرگز نہیں کیونکہ کئی سو سال ان کی وفات کے بعد عیسائیوں کو غلبہ حاصل ہوا اور دو سو سال تک دشمن ان پر غالب رہے۔پس حضرت مسیح موعود کی وفات نے آپ کے مخالفین کو کیونکر ہم سے یہ مطالبہ کرنے کا حق دیدیا ہے کہ کیوں ابھی سے آپ کی جماعت ساری و نیاپر غالب نہیں آجاتی۔ظاہری غلبہ کے متعلق اعتراض کا جواب جو حالت حضرت مسیح موعود ؑکی وفات کے بدر ماری تھی وہی حضرت مسیح ؑ کی وفات یا بقول ہمارے مخالفین ان کے آسمان پر چڑھنے کے وقت تھی۔پس اس وقت اگر فوق الذين كفروا ' کا ارشاد سچا تھا تو آج مولوی اس بات پر کیوں چیختے اور شور مچاتے ہیں کہ احمدیوں کو مخالفین پر بھی ظاہری غلبہ حاصل نہیں ہوا۔اگر پہلا مسیح ظاہری غلبہ نہ ہونے سے جھوٹا نہیں تھاتو آج مسیح موعود کیو نکر جھوٹا ہو سکتا ہے۔اگر حضرت موسیٰؑ کی صداقت پر اس سے کوئی الزام نہیں آتا کہ وہ باوجود حکومت حاصل ہونے کا وعدہ ملنے کے جنگل میں فوت ہو گئے ان کی قوم ۴۰ سال تک بیابانوں میں بھٹکتی رہی دشمن ان کے سامنے حکومت کرتا رہا اور حضرت موسیٰؑ چٹان پر چڑھ کے دیکھتے رہے کہ دشمن حکومت کر رہا ہے اور خود فوت ہو گئے تو پھر کیوں کہا جاتا ہے کہ چونکہ مرزا صاحب نے دشمنوں پر غلبہ نہ دیکھا اس لئے سچے نہ تھے۔اگر حضرت موسیٰؑ‘حضرت عیسیٰؑ حضرت محمد ﷺکی اس طرح تکذیب نہیں ہوتی تو کیا وجہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب اس سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب کے نشان لوگ کہتے ہیں مرزا صاحب نے کیا نشان دکھائے انکی فلاں پیشگوئی جھوٹی نکلی۔فلاں بات جھوٹی ثابت ہوئی۔ہم کہتے ہیں قرآن میں یہی لکھا ہے کہ سب انبیاء کو ان کے مخالف یہی کہتے رہے ہیں بلکہ یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کی ساری باتیں جھوٹی نکلیں۔پس اگر حضرت آدم ؑکے دشمنوں نے ان کے متعلق کہا کہ ان کی ساری باتیں جھوٹی نکلیں مگر وہ سچے تھے، اگر حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق