انوارالعلوم (جلد 8) — Page 631
۶۳۱ جمع ہو کر بڑے بڑے کام آتی ہے لیکن اگر سٹیم کو نکل جانے دیا جائے تو وہ انجن جو بہت سی گاڑیوں کو کھینچتا ہے ،خود بھی نہیں ہل سکتا۔پس ہمیں اپنے جوشوں اور جذبات کا مفید استعمال کرنا چاہیے نہ کہ آنسوبہا کر آرام حاصل کرنا چاہئے۔یاد رکھو کہ وہ پانی جو بہہ گیا وہ بہہ گیا لیکن جسے روک لیا جائے وہ بڑے بڑے عظیم الشان کام کرتا ہے۔پس یہ جذبات جو واقعہ شہادت سے ہمارے اندر پیدا ہوئے ہیں ،ان سے فائدہ اٹھانا چاہے۔اور وہ خیالاتِ ناپاک‘ وہ عقائدِ باطلہ اور وہ تربیتِ خراب جس کی وجہ سے اس قسم کے واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں ان کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جانا چاہئے۔میرے نزدیک کابل کے علماء یا امیر امان اللہ خاں صاحب یا امیر حبیب اللہ خان صاحب، یا امیر عبدالرحمنٰ خان صاحب مولوی نعمت اللہ خان صاحب ،صاحبزاده سید عبد اللطيف صاحب اور ملّا عبد الرحمٰن صاحب کے قتل کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے اصل قاتل وہ گندے خیالات اور وہ غلط عقیدے اور وہ خراب تربیت ہے جو ان لوگوں کی ہوئی۔اگر ان باتوں کو بدل دو تو کیا اس کے ساتھ ہی یہ لوگ بھی بدل نہ جائیں گے۔یہی مولوی جو بڑے زور شور سے اس قتل کی حمائت کر رہے ہیں اگر آج عیسائی ہوتے اور انہیں سکھایا جاتا کہ نیک نامی ایک اچھی چیز ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہے تو کیا یہی کابل کے علماء اس قتل کے خلاف آواز نہ اٹھاتے۔اسی طرح اگر یہی امیر امان اللہ خان صاحب ان وحشیانہ خیالات سے جُدا ہو جائیں یا امیر حبیب اللہ خان صاحب ان سے جُدا ہو جاتے تو کبھی مولوی نعمت اللہ خان صاحب اور سید عبد اللطيف صاحب کے قتل کی اجازت نہ دیتے۔پس ان شہیدوں کے قاتل امیر امان اللہ خان صاحب اور امیر حبیب اللہ خاں صاحب یا علماء کابل نہیں ہیں بلکہ ان کے قاتل وہ جہالت اور وہ غلط خیالات ہیں جو اس ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔مگر باوجود اس کے ہمارے اندر انتقام کی خواہش پر بھی موجود ہے اور ہونی چاہئے اور ہمارا جوش پھر بھی بڑھتا ہے اور بڑھنا چاہئے۔کیونکہ وہ چیز جو ہمارے بھائیوں کو مارنے والی ہے وہ موجود ہے اور اس کو مٹانا ہمارے لئے ضروری ہے انتقام ایک ایسا جذبہ ہے جو خدا تعالی نے انسان میں اس کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے مگر اس کے لئے نہایت ضروری امر یہ ہے کہ معلوم کیا جائے انتقام کس سے لینا ہے۔اس بات کا پتہ لگائے بغیر اگر عام طور پر اس جذ بہ کا استعمال کیا جائے تو انسان خود مجرم بن جاتا ہے۔دیکھو اگر ایک شخص جس کے باپ کو کسی نے مار دیا ہو بغیراپنے باپ کے قاتل کا پتہ لگائے کسی