انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 626

۶۲۶ آب پرستی کے یا اور مذاہب با وجود قسم قسم کی بدعات اور حیاسوز تعلیمات کے انسانی فطرت کو دبا نہیں سکے۔اور جب کہیں ظلم اور تعدی ہوگی ہر انسان کے دل سے یہ آواز نکلے گی کہ اس کو برداشت نہیں کرنا چاہئے۔اور جب بھی ظلم و ستم کے واقعات دنیا میں رونما ہوں وہ ایک عالمگیر ہیجان اور جوش پیدا کر دیتے ہیں۔ایسے اوقات میں ایک دوسرا فریق بھی نمایاں ہو جا تا ہے اور وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی فطرتیں مر جاتی ہیں اور فطرت اس وقت تک نہیں مرتی جب تک کوئی انسان اس سے بالکل دوسری طرف نہ نکل جائے۔انسانی فطرت آگ کی طرح ہوتی ہے اور جو آگ کے پاس کھڑا ہو ضروری ہے کہ گرمی محسوس کرے اس لئے جو فطرت کے پاس کھڑا ہوتا ہے اسے بھی وہ کھینچ لیتی ہے لیکن جو دور نکل جاتے ہیں ان پر اثر نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں میں ظلم و جور کے واقعات سے ہیجان پیدا ہوتا ہے مگر وہ بالکل دوسری قسم کا ہوتا ہے۔جب وہ انسانی خون گرا ہوا دیکھتے ہیں تو اور خون گرانا چاہتے ہیں۔پس ایسے واقعات سے دونوں قسم کے لوگوں میں جوش اور ہیجان پیدا ہو جاتا ہے، جن کی فطرتیں مردہ نہیں ہوتیں ان میں اس لئے جوش پیدا ہوتا ہے کہ ظلم و ستم ہوا۔اور جن کی فطرتیں مردہ ہوتی ہیں وہ زیادہ ظلم کے خواہشمند ہوتے ہیں کیونکہ ان کی مثال اس چیتے کی سی ہوتی ہے جس کے منہ میں ایک دفعہ انسانی خون لگ جائے تو وہ ہمیشہ اس کا منتظر رہتا ہے۔اسی طرح وہ لوگ بھی چاہتے ہیں کہ اور ظلم کریں۔مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت اسی قسم کے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے۔جس نے اس وقت دنیا میں شور اور تہلکہ مچا دیا ہے۔حتّیٰ کہ وہ لوگ جو ہمارے مذہب کے مخالف ہیں، وہ بھی ایسے رنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس طرح کوئی احمدی بھی نہیں کر سکا۔لندن میں جب اس ظلم کے خلاق اظہار نفرت کا جلسہ ہوا تو اس جلسے میں یکے بعد دیگرے تین معزز اور با اثر پادریوں نے تقریریں کیں۔ان میں سے ایک نے کہا انیس سو سال ہوئے جب حضرت مسیح آئے تھے۔اس وقت ان کے حواریوں نے جو قربانیاں کیں ان کی مثال اگر کہیں نظر آتی ہے تو اس زمانہ کے احمدیوں میں۔اسی طرح سب نے نہایت زور دار تقریریں کیں۔اور انہوں نے کہا کہ یہ شہادت صرف احمدیت کے لئے نہیں بلکہ اس اصول کی خاطر ہے کہ انسان سچائی کو کسی دوسرے کے کہنے اور جبر کرنے پر نہیں چھوڑ سکتا۔اس قسم کی تقریر یں کرنے والے وہ لوگ تھے جو رسول کریم ﷺ سے بھی بڑھا کر حضرت مسیح کو مانتے ہیں۔اور اگر حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے تو بھی انہیں ایسی عظمت دیتے ہیں کہ کسی اور انسان کو ان کے مساوی نہیں سمجھتے۔ان کا یہ تسلیم کرنا کہ