انوارالعلوم (جلد 8) — Page 617
۶۱۷ نے مبلغ مانگے۔ایک اور نمائندہ نے یہ تحریر کا نمونہ مانگا۔حالانکہ بڑے آدمیوں کے لئے مانگنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔اس نے کہا کہ مجھے دو کاپیاں دی جائیں۔ایک اپنے دوست کو دوں گا اور ایک اپنے ملک کی یونیورسٹی کو۔زیکو سلوویکیا ( CZECHOSLOVAKIA) کے قائم مقام پر حیرت ہی ہو گئی مجھے بتایا گیا تھا کہ بڑا مغرور ہے۔مجھے دیکھ کر جب وہ ملا تو اس نے بتایا۔فلاں ہوں۔اور کہنے لگا کہ میں بہت بد قسمت ہوں کہ یہ عمرآگئی اور مذہب کے متعلق کچھ نہیں سنا اور آج پہلا دن ہے کہ یہ باتیں سنی ہیں۔ایک پادری تھا کہنے لگا میں بہت خوش قسمت ہوں کہ آج اسلام کے متعلق یہ بیان سن لیا وہ آخر تک کھڑاہی رہا۔جب اسے موقع ملتا مجھ سے بات کرنے لگ جاتا۔اس نے اپنے پتہ کا کارڈ دیا اور کہا کہ میری عزت افزائی ہوگی اگر قبول کیا جائے گا اور حالات سلسلہ معلوم کرنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔گویا جس طرح خدا قلوب کو کھول دیتا ہے اس طرح کی حالت تھی پھر جیسا کہ مولوی شیر علی صاحب نے اشارہ کیا ہے۔پریذیڈنٹ جلسہ کانفرنس نے تین چار دفعہ کہا اور گھر میں بھی آ کر کہا کہ اسلام زندہ مذہب ہے اور سلسلہ احمدیہ اس کا زندہ ثبوت ہے۔میں نے اس سفر میں جو اصول تبلیغ تجویز کئے ہیں ان میں سے کچھ مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو لکھ کر دے آیا ہوں اور کچھ لکھ رہا ہوں۔فی الحال بیان کرنے مناسب نہیں کیونکہ بعض سے دشمن فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں۔وہاں کے لوگوں میں عجیب محبت کا جوش دیکھا۔جب ہماری واپسی کی تیاری ہونے لگی۔تو کئی لوگ سوال کرتے کہ یہاں ٹھہرتے کیوں نہیں اور جب میں کہتا کہ مرکز سلسلہ میں کام ہے تو جیسے سوکنوں کا رشک ہوتا ہے کہتے کیا آپ ہندوستان کو ہمارے ملک کی نسبت زیادہ پسند کرتے ہیں۔اس کا میں یہی جواب دیتا کہ چونکہ خدا نے ہندوستان میں سلسلہ کا ہیڈ کوارٹر بنا دیا ہے اس لئے جانا ضروری ہے۔واپس آتے ہوئے رستہ میں ایک امریکی کا خط ملا ہے جس میں لکھا ہے کیا انگلستان ہم سے زیادہ مستحق ہے کہ خدا کا پیغام سنے اور ہم نہ سنیں۔کیا وہی اس بات کا مستحق تھا کہ وہاں سے ظلمت دور ہو اور ہم مستحق نہیں۔کیا آسمانی پانی اسی کے لئے تھا ہمارے لئے نہیں۔اسی طرح کے کئی فقرے اس نے لکھے ہیں۔غرض ہر طرف عجیب قسم کا جوش پیدا ہو گیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ آج ہی کٹنگ آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بعد بھی تذکرہ ہو رہا ہے۔پیرس پہنچنے کا بھی تار ولایت کے