انوارالعلوم (جلد 8) — Page 599
۵۹۹ چاہئے کہ انسان کے اعمال و افعال میں اس کا پورا رنگ پایا جاوے۔اور وہ خدا تعالی کی صفات کا مظہر ہو جاوے۔بہت سے لوگ یہ اقرار تو کرتے ہیں کہ وہ خدا پر اور اس کے ایک ہونے پر ایمان لاتے ہیں لیکن جب امتحان کا وقت آتا ہے تو فیل ہو جاتے ہیں ان کے افعال اس کی تائید نہیں کرتے اور نہ اس ایمان کے ثمرات ان میں پائے جاتے ہیں جس ایمان کے ثمرات نہ ہوں وہ ایک خشک درخت کی طرح ہے جو کاٹ کر جلانے کے قابل ہوتا ہے۔خدا تعالی کی وحدانیت پر ایمان انسان کے اندر ایک پاک تبدیلی کر دیتا ہے۔اور جس جس قدر یہ یقین ترقی کرتا ہے انسان خدا کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی صفات کا مظہر ہوجاتا ہے۔حضرت مسیح موعودؑیہی ایمان اور یقین پیدا کرتے تھے انہوں نے صرف یہ نہیں کہا کہ خدا دیکھتا ہے یا بولتا ہے بلکہ اپنے متبعین کو اپنے عمل سے دکھادیا اور خود ان میں یہ قوت پیدا کردی کہ وہ خدا کو بولتے ہوئے سن لیں۔غرض پہلی تعلیم ان کی خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت کے متعلق یہ تھی کہ ایک غیر متنرلزل اور خدانمایقین پیدا کریں۔اور کامل طور پر حقوق اللہ کی شناخت ہو۔دوسری بات آپ نے یہ تعلیم کی کہ انسان با اخلاق انسان کو کیونکر بنتاہے۔اس کے لئے آپ نے اول اخلاق کی حقیقت بتائی کہ اخلاق محض اس کا نام نہیں ہے کہ انسان کسی سے نرمی سے پیش آتا ہے یا سختی کرنے سے خاموش ہو رہتا ہے۔کیونکہ طبعی طور پر یہ باتیں جانوروں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ایک بکری کتنی نرم ہوتی ہے لیکن کوئی نہیں کہتا کہ بکری بڑی بااخلاق ہے۔اخلاق حقیقت میں طبعی قوتوں کی تعدیل اور بر محل استعمال کا نام ہے۔انہوں نے بتایا کہ جس قدر قویٰ انسان کو دیئے گئے ہیں یہ سب اخلاقی قو تیں اور اخلاق ہیں۔انسان کے اندر اخلاقی روح پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعودؑنے اولا ًاخلاق کی حقیقت بتائی۔پھر یہ سمجھایا کہ اخلاق میں انسان کی ترقی تدریجی ہوتی ہے۔جس طرح پر وہ جسمانی طور پر ترقی کرتاہے تو تدریجی ترقی ہوتی ہے۔ایک دن کا بچہ ایک دن میں ہی ایک پختہ مغز انسان کی طرح نہیں ہوجاتا۔اس لئے اخلاقی ترقی کے مدارج ہیں۔اور اخلاق کے مختلف شعبے ہیں اور ہر شعبہ میں ترقی کے لئے خاص اصول اور قواعد ہیں-مثلاً پاک بازی اور عفّت کے لئے جب اسلام تعلیم دیتا ہے تو وہ ان امور کی اصلاح سے شروع کرےگاجو عفّت کے خلاف گناہوں کے مبادی ہوتے ہیں۔اور پھر اخلاقی تعلیم میں قرآن مجید صرف یہی نہیں کہتا کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو بلکہ وہ ہر حکم ، ہرامرونہی کے وجوہ و عِلل بتاتا ہے۔اور دلائل کے