انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 499

۴۹۹ دورہ یورپ سنگساری کا اعلان کیا جارہا تھا- اس وقت کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بجائے گھبرانے کے مسکرارہے تھے گویا کہ ان کی موت کا فتویٰ نہیں بلکہ عزت افزائی کی خبر سنائی جارہی ہے۔شہید مرحوم کی آخری خواہش اور اس کے متعلق افغان حکام کا شکریہ: جب ان کو میدان میں سنگسار کرنے کے لئے لے گئے تو انہوں نے اس وقت ایک خواہش کی جسے افغان حکام نے منظور کرلیا اور ہم اس کے لئے اس کے ممنون ہیں- وہ خواہش یہ نہ تھی کہ وہ اپنی ماں کو دیکھ لیں یا اپنے بوڑھے باپ کو ایک دفعہ مل لیں بلکہ یہ خواہش تھی کہ اس دنیا کی زندگی کے ختم ہونے سے پہلے ان کو ایک دفعہ اپنے رب کی عبادت کرنے کا پھر موقع دیا جائے- حکام کی اجازت ملنے پر انہوں نے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بعد ان کو کہا کہ اب میں تیار ہوں جو چاہو سو کرو- کابل کی سرکاری اخبار کابیان: کابل کا نیم سرکاری اخبار جس سے شہادت کے واقعات کا اکثر حصہ لیا گیا ہے اپنی ۶؍ستمبر کی اشاعت میں حالات شہادت لکھتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’مولوی نعمت اﷲبڑے زور سے احمدیت پر پختگی پر مصر رہا اور جس وقت تک اس کا دم نہیں نکل گیا سنگساری کے وقت بھی وہ اپنے ایمان کو بآواز بلند ظاہر کرتارہا‘‘- ایک چھوٹاسا زخم انسان کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے لیکن اس شخص کا خیال کرو جس پر چاروں طرف سے پتھر پڑ رہے تھے مگر اسے صرف ایک ہی دُھن تھی کہ جس امر کو وہ سچ یقین کرتا تھا وہ اسے مرنے سے پہلے پھر ایک دفعہ اپنے برادرانِ وقت کے کانوں تک پہنچاوے۔دیگر واقعات: ایسوشی ایٹڈ پریس کا پشاور کا ۴؍ستمبر کا تار جو ہندستان کے سب اخبارات میں چھپا ہے اس میں بتایا گیاہے سنگساری سے پہلے مولوی نعمت اﷲشہید کو قید خانہ میں بھی کئی قسم کے عذاب دئیے گئے تھے- ہندوستان کا سب سے وسیع الاشاعت اینگلو انڈین روزانہ پانیئرّ لکھتا ہے کہ یہ معاملہ معمولی نہیں بلکہ نہایت اہم ہے- وہ اپنے تازہ ایشو میں یہ بھی لکھتا ہے کہ امیر نے نعمت اﷲخان کو صرف آرتھوڈکس پارٹی کے خوش کرنے کے لئے قتل کیا ہے- کابل کی آمدہ خبروں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گورنمنٹ کابل نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی احمدیوں سے ایسا ہی معاملہ کرے گی اور وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے ملک کاقانون مرتد سے ایسے ہی سلوک کا مطالبہ کر تا ہے) مگر گورنمنٹ کی اپنی چٹھّیاں اس امر کی تردید کر رہی