انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 437

۴۳۷ دوره یو رپ ہے اور سفرسخت ہے۔کام اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔اس وقت بھی بخار کی حالت میں مضمون لکھ رہا ہوں ہڈیاں کھو کھلی ہوئی ہیں، دماغ میں طاقت نہیں رہی، ہاتھ رہے جاتے ہیں، خدا ہی ہے جو اس کام سے فارع فرماکر خیریت سے دیار محبوب میں پہنچائے۔بس اب میں خط کو ختم کرتاہوں کہ اس وقت میری یہ حالت ہے دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانیئے کیا یاد آیا جماعت کے لئے دعا اے میری عزیز قوم اور اے خدا کے فرستادہ کی مقدس جماعت! تمہاری بہبودی اور بہتری کا خیال میرے دل کو ہر وقت فکر مند رکھتا ہے۔اور تمہاری محبت ہمیشہ مجھے بد گمانیوں میں مبتلا رکھتی ہے کہ* عشق است وہزار بدگمانی- اے کاش میں اپنی آنکھوں سے تم کو وہ کچھ دیکھ لوں جو میں دیکھنا چاہتاہوں۔اے کاش تمهارا ایمان اور تمہارا یقین اور تمہارا ایثار اور تمہارے اخلاق اور تمہارا دن اور تمہارا علم اور تمہارے عمل اور تمہاری قربانیاں ایسی ہوں بلکہ اس سے بڑھ کر جو میں دیکھنی چاہتاہوں۔اے کاش تم زمانہ کی دست بُرد سے محفوظ رہو۔اے کاش تم ہر قسم کے فتنوں سے بچے رہو۔خداتعالی تم میں ہمیشہ وہ لوگ پیدا کرتا ہے جن کے دل تمہاری خیر خواہی اور محبت کے جذبات سے پُر ہوں۔اور جن کے افکار تمہاری بہتری کی تجاویز میں مشغول۔تم یتیموں کی طرح کبھی نہ چھوڑے جاؤ اور سورج تم پرلاوارثی کی حالت میں کبھی نہ چڑھے۔تم خدا کے پیارے ہو اور خدا تمہارا پیارا ہو- اے خدا !تُوایسا ہی کر اور زندگی اور موت میں مجھے ایسا ہی رکھ۔خاکسار مرزا محموداحمد (الفضل ۱۶- اگست ۱۹۲۴ء)