انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 430

۴۳۰ دوره یو رپ تھا اس نے اپنی کُرسی سمندر کے کنارے پر بچھائی اور وہاں بیٹھ گیا۔وہ وقت مَد کا تھا جس وقت سمندر جوش میں آتا ہے اور وہ میل میل خشکی پر چڑھ جاتا ہے۔لہریں اٹھنے لگیں اور پانی کُرسی کے گرد اونچا ہونے لگا۔کے نیوٹ ظاہر میں غصہ کی شکل بنا کر لہروں کو حکم دیتا کہ پیچھے ہٹ جاؤ مگر پانی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ بادشاہ کے ساتھیوں کو جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔اس وقت بادشاہ اٹھ کر خشکی کی طرف آیا اور درباریوں سے کہا کہ دیکھا تم کس قدر جھوٹ کہتے تھے۔قصہ کا مطلب اس کا یہ مطلب تھا کہ جس طرح ’’کے نیوٹ" بادشاہ کے حکم سے باوجود اس کے اقدار کے سمندر پیچھے نہیں ہٹتا تھا اسی طرح یورپ کو ایشیائی طریق کا مسلمان بنانا ممکن ہے۔وہ کسی تدبیر سے اس کو قبول نہیں کر سکتا۔مگر ادھر تو اس سفر پر انگریزوں کو اس قدر تعجب ہے ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ محض تبلیغ پر انہوں نے کبھی تعجب نہیں کیا۔وجہ یہی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ منہ سے اسلام کا اقرار کرا کے اسلام سے ایک ظاہری تعلق تو یورپ کا پیدا کرایا جاسکتا ہے مگر اسلام کے تمدن کا ان کو عادی بنا دیناممکن ہے۔یورپ کے اسلامی تمدن کو قبول نہ کرنے کا خطرہ مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اگر یہی بات ہو کہ یورپ اسلام کو قبول کر لے مگر اس کے تمدن کو قبول نہ کرے تو یہ کیسی خطرناک بات ہوگی۔اسلام جو تیرہ سو سال سے بالکل محفوظ چلا آیا ہے اس کی شکل کس طرح بدل جائے گی۔اور مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی غرض کس طرح باطل ہو جائے گی۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پھر یورپ میں تبلیغ کے کام کو چھوڑو۔کیونکہ یورپ کی غیر معروف بے کس آدمی کا نام نہیں جو اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے۔اس کو اگر ہم اکیلا چھوڑ دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔یورپ ایک زندہ طاقت کا نام ہے جس کی مثال اس ریچھ کی ہے جسے چھوڑنے کے لئے مسافر تو تیار تھا مگروہ مسافر کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھا۔یورپ کامذہب، یورپ کا تمدن، یورپ کا علم دنیا کو کھا رہا ہے اور کھاتاچلاجارہا ہے۔ہمارا اسکو چھوڑ دینا یہ مطلب رکھتا ہے کہ ہم اسے چھوڑ دیں کہ وہ اسلام کا جو کچھ باقی رہ گیا ہے اسکو بھی کھاجائے اور ہماری ترقی کا میدان بالکل تنگ ہو جائے۔ہم جس قدر آدمیوں کو ایک سال میں احمدی بناتے ہیں اس سے کئی گنا لوگوں کو یورپ اپنا شکار بنا لیتا ہے اور پھر یورپ کی تصنیف کردہ کتب ہمارے بچے بھی پڑھتے ہیں اور ان سے متاثر ہونے کے خطرہ میں ہیں پس یہ بالکل ناممکن ہے کہ ہم یورپ کو چھوڑدیں۔