انوارالعلوم (جلد 8) — Page 426
۴۲۶ دوره یو رپ پریاسؤر کا یا گردن مروڑے ہوئے مرغ کا ہوتا تھا یا ایک تھالی گائے کے گوشت کی جو وہ بھی ہندوستانی طریق خوراک کے خلاف۔یہ گوشت چونکہ بمبئی کا خریدا ہوا تھا اس کا کھانا تو جائز تھا مگر وہ عام طور پر کھٹاس میں پکایا ہوا ہوتا تھا۔جس کی وجہ سے ہمارے لئے کھانا اس کا بہت مشکل تھا۔باقی ابلے ہوئے آلو اور اُبلی ہوئی پھلیاں تھیں۔جن کو بِلا اعتراض کے کھایا جاسکتا تھا۔ان حالات میں جو تکلیف تمام قافلہ کو پہنچی اس کا اندازہ ہمارے دوست نہیں کر سکتے۔دوستوں کی حالت اوردل توڑدینے والانظاره بعض کمزور طبیعت دوست تو رو پڑے اور بعض کو میں دیکھتا تھا کہ ان کے چہروں پر جُھریاں پڑگئیں اور بوڑھے معلوم ہونے لگے میں کسی وقت ہمت کر کے دوستوں کی ہمت بڑھانے کے لئے کمرے سے نفس پر زور کر کے باہر چلا جاتا تو سب دوست خوشی سے میرے گرد اکٹھے ہو جاتے۔مگر جس طریق سے وہ اکٹھے ہوتے تھے وہ خود دل کو توڑ دینے والا تھا۔ست جو میرے ساتھ تین چار دن پہلے اچھے بھلے اور تندرست سوار ہوئے تھے جب میں دیکھا کہ وہ گھٹنوں کے بل گِھسٹتے ہوئے جس طرح اپاہج چلتا ہے میری طرف آتے تھے اور آکر میرے پاس اس طرح لیٹ جاتے جس طرح زخمی پڑے ہوئے ہوتے ہیں تو میرا خداہی جانتاہے کہ میرے دل پر اس نظارہ کا کیا اثر ہوتا تھا۔یہ حالت چار دن تک تو بہت شدت سے رہی اور پانچویں دن بھی کافی سخت تھی گو زور کم ہونا شروع ہو گیا تھا۔طوفان ان پانچ دنوں میں ایساسخت رہا کہ جہاز کے عادی ملاح بھی نصف کے قریب بیمار ہوگئے اور افسراس قدر گھبرا گئے کہ جب کپتان جہاز سے پوچھا گیا کہ عدن کب پہنچیں گے۔تو اس نے ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف اٹھادیئے اور آنکھیں آسمان کی طرف اٹھادیں جس کا مطلب یہ تھا کہ خداہی پہنچائے گا۔لہر اتنی اونچی تھی کہ میں جہاز کی اوپر کی چھت پر لیٹا ہوا تھا اور کمرے کے اندر تھا کہ ایک درباره گز اُونچی اٹھ کر چھت پر آگری۔اور کمرہ کے اندر مجھ پر آکر گری جس سے میں تر بہ تر ہوگیا ،کئی تختے ٹوٹ گئے۔میری طبیعت پر پہلی سخت اور بعد کی تکلیف کا یہ اثر ہوا کہ میرا حلق بالکل بیٹھ گیا دن میں تین دفعہ دوائی لگائی جاتی ہے اور کئی دفعہ پلائی جاتی ہے مگر کوئی اثر نہیں۔گلے میں شدید درد ہے اور ساتھ ہی بخار بھی شروع ہوگیا ہے۔ہلکاہلکا بخار دن بھر رہتا ہے۔سر میں بھی درد رہتا ہے اور طبیعت روز بروز گُھلتی جاتی ہے اور آگے کام کا پہاڑ نظر آتا ہے اور سفر کی شدائد ابھی باقی ہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: