انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 369

۳۶۹ سفید کے مالک تھے۔دوسری طرف وہ لوگ تھے جو کسی شمار میں ہی نہ سمجھے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو عہد میں نے کیا تھا وہ بار بار مجھے اندر ہی اندر ہمت بلند کرنے کے لئے اُکساتا تھا۔مگر میں بے بس اور مجبور تھا۔میری کوششیں محدود تھیں۔میں ایک پتے کی طرح تھا نے سمندر میں موجیں ِادھر سے اُدھر لئے پھریں۔سلسلہ کو ایک اخبار کی ضرورت ”بدر“ اپنی مصلحتوں کی وجہ سے ہمارے لئے بند تھا ’’الحکم‘‘ اول توٹمٹماتے چراغ کی طرح کبھی کبھی نکلتا تھا۔اور جب نکلتا بھی تھا تو اپنے جلال کی وجہ سے لوگوں کی طبیعتوں پر جو اس وقت بہت نازک ہو چکی تھیں۔بہت گراں گذرتا تھا۔” ریویو‘‘ ایک بالا ہستی تھی جس کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔میں بے مال و زر تھا۔جان حاضر تھی۔مگر جو چیز میرے پاس نہ تھی وہ کہاں سے لا تا- اس وقت سلسلہ کو ایک اخبار کی ضرورت تھی جو احمدیوں کے دلوں کو گرمائے ان کی سُستی کو جھاڑے۔ان کی محبت کو اُبھارے ان کی ہمتوں کو بلند کرے اور یہ اخبار ثریا کے پاس ایک بلند مقام پر بیٹھا تھا۔اس کی خواہش میرے لئے ایسی تھی جیسے ثریا کی خواہش، نہ وہ ممکن تھی نہ یہ - آخر دل کی بے تابی رنگ لائی۔امید بر آنے کی صورت ہوئی اور کامیابی کے سورج کی سرخی اُفقِ مشرق سے دکھائی دینے لگی۔حرم اول کا بے نظیر ایثار خدا تعالی نے میری بیوی کے دل میں اس طرح تحریک کی جس طرح خدیجہ ؓکے دل میں رسول کریمﷺ کی مدد کی تحریک کی تھی۔انہوں نے اس امر کو جانتے ہوۓ کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنویں میں پھینک دیا اور خصوصا ًاس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اُس زمانہ میں شاید سب سے بڑا مذموم تھا۔اپنے دو زیور مجھے دے دیئے کہ میں ان کو فروخت کر کے اخبار جاری کردیں ان میں سے ایک تو ان کے اپنے کڑے تھے اور دوسرے ان کے بچپن کے کھڑے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیز ہ ناصرہ بیگم سَلَّمَھَا اللہ تعالیٰ کے استعمال کے لئے رکھے ہوئے تھے۔میں زیورات کو لے کر اسی وقت لاہور گیا اور پونے پانچ سو کے وہ دونوں کے فروخت ہوئے یہ ابتدائی سرمایہ الفضل کا تھا۔الفضل اپنے ساتھ میری بے بسی کی حالت اور میری بیوی کی قربانی کو تازه رکھے گا۔اور میرے لئے تو اس کا ہر اک پرچہ گوناگوں کیفیات کا پیدا کرنے والا ہو تا ہے۔بارہا وہ مجھے جماعت کی وہ حالت یا دولا تا ہے جس کے لئے اخبار کی ضرورت تھی بارہا وہ مجھے اپنی بیوی کی