انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 368

۳۶۸ اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک دریا بہنے لگتا تھا۔اس دن میں نہ کھانا کھاسکانہ میرے آنسو تھمے۔حتی کہ میری لااُبالی طبیعت کو دیکھتے ہوئے میری اس حالت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی تعجب ہوا۔اور آپ نے حیرت سے فرمایا۔محمود کو کیا ہو گیا ہے اس کو تو مولوی صاحب سے کوئی ایسا تعلق نہ تھا۔یہ تو بیمار ہو جائے گا۔زندگی میں سب سے زیادہ تغیر کس طرح پیدا ہوا خیر مولوی عبد الکریم صاحب کی وقت نے میری زندگی کے ایک نئے دور کو شروع کیا۔اس دن سے میری طبیعت میں دین کے کاموں میں اور سلسلہ کی ضروریات میں دلچسپی پیدا ہونی شروع ہوئی اور وہ بیج بڑھتا ہی چلا گیا۔سچ یہی ہے کہ کوئی دنیاوی سبب حضرت استاذی المکرم مولوی نور الدین صاحب کی زندگی اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات سے زیادہ میری زندگی میں تغیر پیدا کرنے کا موجب نہیں ہوا۔مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات پر مجھے یوں محسوس ہوا کہ گویا ان کی روح مجھ پر آپڑی۔حضرت مسیح موعود کاسال وصال ۱۹۰۸ ء کا زکر میرے لئے تکلیف دہ ہے وہ میری کیا احمدیوں کی زندگی میں ایک نیا دَور شروع کرنے کا موجب ہوا۔اس سال وہ ہستی جو ہمارے بے جان جسموں کے لئے بمنزلہ روح کے تھی اور ہماری بے نور آنکھوں کے لئے بمنزلہ بینائی کی تھی۔اور ہمارے تاریک دلوں میں بمنزلہ روشنی کے تھی۔ہم سے جُدا ہو گئی۔یہ جُدائی نہ تھی ایک قیامت تھی۔پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔اور آسمان اپنی جگہ پر سے ہل گیا۔اللہ تعالیٰ گواہ ہے۔ُاس وقت نہ روٹی کا خیال تھا۔یہ کپڑے کا۔صرف ایک خیال تھا کہ اگر ساری دنیا بھی مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑ دے تو میں نہیں چھوڑوں گا۔اور پھر اس سلسلہ کو دنیا میں قائم کروں گا۔میں نہیں جانتا۔میں نے کس حد تک اس عہد کو نباہاہے مگر میری نیت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اس عہد کے مطابق میرے کام ہوں۔۱۹۱۳ء کا افسوس ناک سال اس کے بعد ۱۹۱۳ء آیا۔مسیح موعود علیہ السلام سے بُعد اور نورِنبوت سے علیحدگی نے جو بعض لوگوں کے دلوں پر زنگ لگا دیا تھا۔اس نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا۔اور بظاہر یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ سلسلہ پاش پاش ہو جائے گا۔نہایت تاریک منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔مستقبل نہایت خوفناک نظر آتا تھا۔بُہتوں کے دل بیٹھے جاتے تھے۔کئی ہمتیں ہار چکے تھے۔ایک طرف وہ لوگ تھے جو سلسلہ کے کاموں کے سیاہ و