انوارالعلوم (جلد 8) — Page 295
۲۹۵ رکھنا ضروری سمجھا گیا ہے۔ہم لوگوں کے نزدیک یہی طریق حکومت حقیقی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جوں جوں لوگ احمدیت میں داخل ہوتے چلے جائیں گے اپنی مرضی سے بِلا کسی جبر کے خود اس طریق حکومت کی عمدگی کو تسلیم کر لیں گے اور بادشاہ بھی ملک کے فائدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے موروثی حقوق کو خوشی سے ترک کر دیں گے اور اپنے حق کو اسی حد تک محدود رکھیں گے جس حد میں کہ ملک کے دوسرے افراد کے حقوق محدود کئے گئے ہیں۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے صرف روحانی خلافت دے کر بھیجا تھا اس لئے آئندہ جہاں تک ہو سکے آپ کی خلافت اس وقت بھی جب کہ بادشاہتیں اس مذہب میں داخل ہوں گی سیاسیات سے بالا رہنا چاہتی ہے۔وہ لیگ آف نیشنز کا اصلی کام سر انجام دے گی اور مختلف ممالک کے نمائندوں سے مل کر ملکی تعلقات کو درست رکھنے کی کوشش کرے گی اور خود مذہبی، اخلاقی، تمدنی اور علمی ترقی اور اصلاح کی طرف متوجہ رہے گی تاکہ پچھلے زمانہ کی طرح اس کی توجہ کو سیاست ہی اپنی طرف کھینچ نہ لے اور دین و اخلاق کے اہم امور بالکل نظر انداز نہ ہو جائیں۔جب میں نے کہا جہاں تک ہو سکے تو میرا یہ مطلب ہے کہ اگر عارضی طور پر کسی ملک کے لوگ کسی مشکل کے رفع کرنے کے لئے استمداد کریں تو ان کے ملک کا انتظام نیابتاً خلافت روحانی کرا سکتی ہے مگر ایسے انتظام کو کم سے کم عرصہ تک محدود رکھا جانا ضروری ہو گا۔" (احمدیت یعنی حقیقی اسلام، انوار العلوم جلد 8 صفحہ291-295) حقوق و فرائض حکومت اسلامی "اسلامی حکومت کی شکل بیان کرنے کے بعد اب میں ان حقوق کو بیان کرتا ہوں جو اسلام حکومت کو دیتا ہے اور ان فرائض کو بھی جو اسلام حکومت پر عائد کرتا ہے۔سب سے پہلا فرض جو اسلام حکومت پر مقرر کرتا ہے یہ ہے کہ حکومت رعایا کے فوائد اور منافع اور ضروریات اور اتفاق اور اخلاق اور حفاظت اور معیشت اور مسکن کی ذمہ دار ہے چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ الامام راع و ھو مسئول عن رعیتہ و الرجل راع فی اھلہ و مسئول عن رعیتہ و المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجھا و مسئولۃ عن رعیتھا و الخادم راع فی مال سیدہ و مسئول عن رعیتہ فکلکم راع