انوارالعلوم (جلد 8) — Page 267
۲۶۷ وہ ایک طرف کا ہو جائے گا تو ضرور اس کے طبعی جذبات زور کر کے کناروں پر سے بہہ پڑیں گے مثلاً یہ کہ رہبانیت اختیار کرے یا اپنے سب مال لوگوں میں تقسیم کر دے اور اپنے اور اپنے بیوی بچوں کی ضرورت کے لئے کچھ نہ رکھے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے شہوانی جوش کسی قت اس کو اس کے پاؤں پر سے اٹھا کر لے جاویں گے اور یہ حلال طریق کو چھوڑ کر حرام میں مبتلاء ہو گا۔یا یہ ہو گا کہ اس کی ضروریات خور و نوش چونکہ سب مال کے لٹا دینے سے باطل نہیں ہو جائیں گی یہ اپنا مال لٹا کر یا سوال کرنے پر مجبور ہو گا جو بذات خودناپسند ہے اور یا پھر چوری اُچکّا پن کی طرف مائل ہو گا اور بجائے نیکی میں ترقی کرنے کے گناہ کا مرتکب ہو گا۔پس شریعت اسلام نے یہ حکم دے کر کہ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا(البقرة:144) ہم نے تمہیں ایسی قوم بنایا ہے جس کے سب کام میانہ روی پر مبنی ہیں ان دروازوں کو جو گناہ کے ہیں بند کر دیا ہے۔ایک راستہ بدی کا رسم اور عادات ہیں بہت سی بدیاں انسان اس وجہ سے کرتا ہے اور اسے اس کی عادت کے پورا کرنے کا سامان نہیں ملتا یا رسوم کی وجہ سے وہ بدی کرنے پر مجبور ہوتا ہے مثلاً اس کے پاس روپیہ کافی ہوتا نہیں اور ملک کی رسم چاہتی ہے کہ خاص قسم کا لباس پہنے وہ اس رسم کا مقابلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے بدی اور گناہ سے روپیہ کماتا ہے۔اسلام نے ان دونوں راستوں کو بند کر دیا ہے رسموں کو بھی اور عادتوں کو بھی۔عادتوں کو تو اس طرح کہ جس قدر کھانے پینے کی چیزیں ایسی ہیں کہ وہ عادی بنا دیتی ہیں ان کو منع فرما دیا ہے۔چنانچہ شراب اس کی پہلی مثال ہے جو بطور نظیر کے ہے ورنہ ہر اک چیز جو نشہ پیدا کرتی یا انسان کی طاقت کو ساکن کر کے ایک لذت کی حالت پیدا کر دیتی ہے اور آخر انسان کو اپنا عادی بنا لیتی ہے ان سے اسلام منع کرتا ہے۔رسوم کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ ایک بوجھ ہیں جن کو قومی خوف کی وجہ سے انسان اٹھاتا ہے ورنہ وہ بوجھ طاقت سے بڑھ کر ہیں کیونکہ ان میں غریب اور امیر مقروض اور آزاد کالحاظ نہیں رکھا گیا اور لوگوں کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ اپنی خیالی عزت کی حفاظت اور اپنے ہم چشموں میں ذلیل نہ ہونے کی غرض سے گناہ اور بدی میں مبتلاء ہوں اور ظاہر کی خاطر باطن کو تباہ کر لیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰٰ رسول کریم ﷺ کی آمد کی ایک غرض ہی یہ بیان فرماتا ہے کہ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ(الأَعراف:158) یہ نبی حکم دیتا ہے اچھی باتوں کا اور روکتا ہے بری باتوں سے یعنی کامل شریعت لایا ہے۔پھر فرماتا ہے یہ رسول کریم ﷺ حلال