انوارالعلوم (جلد 8) — Page 266
۲۶۶ میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ اس حکم کو عورت کی ہتک کرنے والا خیال کرتے ہیں۔مگر مجھے اس پر تعجب ہے اس لئے کہ پردہ آنکھیں نیچی رکھنے کے حکم کے لئے ایک ظاہری تدبیر ہے اور اس حکم میں مرد اور عورت دونوں کو شریک کیا گیا ہے۔پس اگر ہتک ہے تو دونوں کی ہے نہ کہ عورت کی۔کیونکہ حکم ایک کے لئے نہیں بلکہ دونوں کے لئے ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ عورت کو کیوں پردہ کے لئے کہا گیا ہے مرد کو کیوں نہیں کہا گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام مرد اور عورت کے کام کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے عورت کا کام بچوں کی تربیت ہے اور مرد کا کام ان کے لئےسا مان معیشت بہم پہنچانا ہے۔مرد کو اس کے کام کی نوعیت کی وجہ سے باہر رہنا پڑتا ہے پس مرد کا دائرہ عمل بازار اور سڑکیں ہیں اور عورت کا دائرہ عمل اس کا گھر ہے اور شریعت نے ہر ایک کو اپنے دائرہ عمل کی جگہ میں آزاد کیا ہے اور دوسرے پر کچھ قیدیں لگا دی ہیں۔مرد کو حکم ہے کہ جب وہ کسی کے گھر میں گھسے تو پہلے اجازت لے اور پھر جائے کیونکہ وہ عورتوں کی آزادی کی جگہ ہے۔عورت کو باہر نکلنے پر مردوں سے اجازت لینے کا حکم نہیں دیا بلکہ صرف اس قدر احتیاط کر لینے کا حکم دیا ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت اسلام اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ جس طرح مرد گھر سے بے تعلق ہے اسی طرح عورت سڑکوں اور بازاروں سے بے تعلق نہیں اس لئے مرد پر اجازت کی شرط جو زیادہ سخت ہے لگائی گئی ہے اور عورت پر صرف اپنے ایک حصہ کو ڈھانک لینے کی۔پس پردہ میں ہتک یا غیر ہتک کا کوئی سوال نہیں بلکہ اخلاق ترقی کا ایک زریں ذریعہ ہے اور اس کی مخالفت صرف بوجہ عادات اور رسوم ہے ورنہ میں نے ایسی عورتیں دیکھی ہیں جنہوں نے پردہ شروع کر دیا ہے اور وہ اس میں کوئی بھی تکلیف یا بے آرامی محسوس نہیں کرتیں۔سوائے ابتدائی چند دنوں کی شرم یا بے آرامی کے جو طبعاً ہونی چاہئے۔دوسری مثال بدی کے رستے بند کرنے کی شریعت اسلام کا میانہ روی کا حکم ہے یہ بات ظاہر ہے کہ طبعی جذبات کے کُلّی طور پر روک دینے سے وہ بغاوت کرتے ہیں اور آخر سب روکوں کو توڑ دیتے ہیں۔طبعی جذبات کی مثال بالکل اس دریا کی ہے جس میں کبھی کبھی پانی اس کے پھیلاؤسے زیادہ ہو جاتا ہے۔اگر ہم بند کر لگا کر اس پانی کو استعمال کر لیں تو یہ پانی ہمارے لئے فائدے کا موجب ہو جاتا ہے اگر یہ نہ کریں تو آخر وہ بے موقع ٹوٹتاہے۔اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ مسلمان کو اپنے تمام کاموں میں میانہ روی کی عادت ڈالنی چاہئے۔یہ نہیں کہ ایک ہی طرف کا ہو جائے اگر