انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 255

۲۵۵ کیونکہ جب انسان کو معلوم ہو جائے کہ اس کے لئے ترقی کا دروازہ کھلا ہے اور یہ کہ اگر وہ اصلاح کر لے تو پھر بھی اس پاکیزگی کوحاصل کر سکتا ہے جس پاکیزگی کو حاصل کرنا اس کا فرض مقرر کیا گیا ہے تو وہ ہمت کبھی نہیں ہارتا اور ہمیشہ اپنی اصلاح کی فکر میں لگا رہتا ہے اور جوئندہ یابندہ کی مشہور مثل کے ماتحت آخر کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔بعض لوگ خیال کرتےہیں کہ توبہ کا دروازہ کھولنے سے بدی کا بھی دروازہ ساتھ ہی کھل جاتا ہے اور بجائے اخلاق میں ترقی کرنے کے انسان بد اخلاقی کے ارتکاب پر اور بھی دلیر ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب چاہوں گا توبہ کر لوں گا اور خدا سے صلح کر لوں گا لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے۔چاہوں گا تو یہ کر لوں گا کا خیال کبھی ایک علقمند انسان کے دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ اسے کیامعلوم ہے کہ میں کب مروں اگر اچانک موت آ جائے تو توبہ کس وقت کرے گا؟ علاوہ ازیں توبہ کی حقیقت کو یہ لوگ نہیں سمجھے۔توبہ کوئی آسان امر نہیں ہے اور انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ جب چاہے اپنی مرضی سے توبہ کر لے کیونکہ توبہ اس عظیم الشان تغیر کا نام ہے جو انسان کے قلب کے اندر پیدا ہو کر اس کو بالکل گداز کر دیتاہے اور اس کی ماہیت کو ہی بدل ڈالتاہے۔توبہ کے معنے اپنے پچھلے گناہوں پر شدید ندامت کا اظہار کرنے اور آئندہ کے لئے پورے طور پر خدا سے صلح کر لینے اور اپنی اصلاح کا پختہ عہد کر لینے کے ہیں۔اب یہ حالت یک دم کس طرح پیدا ہو سکتی ہے؟ یہ حالت تو ایک لمبی کوشش اور محنت کے نتیجہ میں پیدا ہو گی۔ہاں شاذ و نادر کے طور پر یکدم بھی پیدا ہو سکتی ہے مگر جب بھی ایسا ہو گا کسی عظیم الشان تغیر کے سبب ہو گا۔جو آتش فشاں مادہ کی طرح اس کی ہستی کو ہی بالکل بدل دے اور ایسے تغیرات بھی انسان کے اختیار میں نہیں ہیں۔پس توبہ کی وجہ سے کوئی شخص گناہ پر دلیر نہیں ہو سکتا بلکہ توبہ اصلاح کا حقیقی علاج اور مایوسی کو دور کرتی ہے اور کوشش اور ہمت پر اکستای ہے اور یہ دھوکا کہ توبہ گناہ پر اکساتی ہے محض عربی زبان کی ناواقفیت اور اسلامی تعلیم سے بے رغبتی اور اس خیال کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے کہ توبہ اس امر کا نام ہے کہ انسان کہہ دے کہ یا اللہ میرے گناہ معاف کر۔حالانکہ گناہوں کی معافی طلب کرنے کا نام توبہ نہیں بلکہ استغفار ہے۔توبہ گناہوں کی معافی طلب کرنے کو نہیں کہتے بلکہ گناہوں کی معافی سچی توبہ کا صحیح نتیجہ ہے۔