انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 228

۲۲۸ طرح جو شخص دل میں لوگوں کے متعلق نیک خیالات رکھتا ہے ان کی بھلائی چاہتا ہے اور ان کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اگر بوجہ سامان کی کمی یا موقع کے میسر نہ آنے کے ان خیالات کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا تو نیک اخلاق والا سمجھا جائے گا۔مگر اس قاعدہ میں ایک استثناء ہے اور وہ یہ کہ جس شخص کے دل میں بد اخلاقی کے خیالات آتے ہیں مثلاً اپنے بہائیوں کی نسبت بد ظنی کا خیال پید اہوتا ہے یا تکبر کا یا حسد کا یا نفرت کا لیکن یہ شخص اس خیال کو دبا لیتا ہے تو یہ بد اخلاقی نہیں سمجھی جائے گی کیونکہ ایسا شخص درحقیقت بد اخلاقی کا مقابلہ کرتا ہے اور تعریف کا مستحق ہے۔اسی طرح جس شخص کے دل میں ایک آنی خیال نیکی کا آئے یا آنی طور پر حسن سلوک کی طرف اس کی طبیعت مائل ہو لیکن وہ اس کو بڑھنے نہ دے تو ایسا شخص بھی نیک اخلاق والا نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ جیسا کہ ثابت کیا جا چکا ہے اخلاق وہ ہیں جو ارادے کا نتیجہ ہوں لیکن مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں اچھے یا برے خیالات ارادہ کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ بیرونی اثرات کے نتیجہ میں بِلا ارادے کے پیدا ہو جاتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم اس نکتہ کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ (البقرة:226) لیکن اللہ تعالیٰ تم کو صرف ان خیالات پر پکڑتا ہے جو ارادے اور فکر کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں نہ ان پر جو اچانک پیدا ہو جاتے ہیں ور تم ان کو فوراً دل سے نکال دیتے ہو۔رسول کریم ﷺ اس کی تشریح یوں فرماتے ہیں کہ بد خیال اچانک پیدا ہو جانے پر جو شخص اس خیال کو نکال دیتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا ایسا شخص نیکی کا کام کرتا ہے اور اجر کا مستحق ہے آپ فرماتے ہیں من ھم بسیئۃ فلم یعملھا کتبھا اللہ عندہ حسنۃ کاملۃ اور اگر کسی شخص کے دل میں برا خیال پیدا ہو او روہ اس کو دبا لے اور اس کے مطابق عمل نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ایک پوری نیکی لکھے گا۔یعنی بد خیالات کے دبانے کی وجہ سے اس کونیک بدلہ ملے گا۔اس قسم کا امتیاز اللہ تعالیٰ نے ظاہری اعمال میں بھی مدنظر رکھا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى۔الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ (النجم:32-33) اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اچھے بدلے دے گا جو کہ تمام بڑی بدیوں اور چھوٹی بدیوں سے بچتے ہیں گو ایسا ہوتا ہو کہ وہ کسی آنی جوش میں کسی گناہ کی طرف مائل ہو جاتے ہوں مگر فوراً ہی سنبھل کر اپنے قدم پیچھے کی طرف ہٹا لیتے ہوں۔مطلب یہ کہ آنی یا فوری جوش کے ماتحت یا