انوارالعلوم (جلد 8) — Page 225
۲۲۵ سمجھا اور اخلاق کو ان کی اصل شکل میں پیش کیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (الشورى:41) اور بدی کا بدلہ اتنا ہی ہے جتنا کہ جرم تھا پھر جب کوئی کسی کو نقصان پہنچائے اور وہ اس کے گناہ کو معاف کر دے اس طرح کہ اس سے اصلاح پیدا ہوتی ہو سا کا نتیجہ فساد نہ ہو تو ایسے شخص کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔یعنی جو جرم سے زیاہد سزا دے یا باوجود اس کے کہ عقلاً معلوم ہوتا ہو کہ مجرم کو سزا دی گئی تو اس کے اخلاق اور بھی بگڑ جائیں گے اور وہ اور بھی نیکی سے محروم ہو جائے گا محض دکھ دینے کے لئے اس کو سزا دیدے یا یہ کہ معلوم ہوتا ہو کہ اس شخص کو اگر معاف کیا تو گناہ پر اور بھی دلیر ہو جائےگا ا ور لوگوں کو نقصان پہنچائے گا معاف کر دے تو ایسا شخص ظالم ہو گا۔اور خد ااس کے اس فعل کو پسند نہیں کرے گا۔اب دیکھو کہ اسلام نے کس طرح اخلاق کی حقیقت کو پیش کیا ہے۔پہلے بتایا ہے کہ جرم کی اسی قدر سزا دینا اصل حکم ہے گو یہ ایک طبعی تقاضا ہے کہ جس سے نقصان پہنچے اس کو اسی قدر نقصان پہنچایا جائے مگر فرمایا کہ انسان جو با اخلاق بنا چاہتا ہے اس کو اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ آیا سزا سے مجرم کی اصلاح ہوتی ہے یا عفو سے پھر اگر عفو سے اصلاح کا احتمال ہو تو چاہئے کہ عفو سے کام لے اور انتقام نہ لے اور اگر سزا سے اصلاح ہوتی ہو تو محض اپنے دل کی کمزوری کی وجہ سے اسے معاف نہ کر دے کیونکہ اس طرح وہ شخص اصلاح سے محروم رہ جائے گا اور یہ رحم نہیں ہو گا بلکہ ظلم ہو گا۔اور جو شخص باوجود جاننے کے کہ سزا سے یا عفو سے زید کی اصلاح ہوتی ہے اس کے خلاف کام کرے گا تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ظالم ہو گا خواہ اس نے معاف ہی کیوں نہ کیا ہو کیونکہ یہ معافی معافی نہیں بلکہ اپنے ایک بہائی کے اخلاق کو دیدہ و دانستہ تباہ کرنا ہے۔رسول کریم ﷺ نے اس مضمون کو اور الفاظ میں ادا کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں الاعمال بالنیات یعنی انسانی اعمال تو وہ ہیں جو ارادے سے اور نیت کے ماتحت کئے جائیں یعنی جو کام محض طبعی جوش کے ماتحت کیا جاتا ہے و ہ ہرگز انسانی عمل نہیں کہلا سکتا بلکہ وہ تو ایک حیوانی جذبہ ہو گا۔اگر گھوڑا یا گدھا ان حالات میں ہوتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔پس جب تک فکر ور غور کے بعد کام کے تمام پہلوؤں کو دیکھ کر کوئی رائے نہ قائم کی جائے اور اس کے مطابق عمل نہ کیا جائے وہ خلق یعنی انسانی فعل نہیں کہلا سکتا۔مذکورہ بالا بیان سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ اسلام نے اخلاق کی حقیقت کو سمجھا ہے