انوارالعلوم (جلد 8) — Page 223
۲۲۳ حیوانوں میں اخلاق فاضلہ نہیں کہلاتیں؟ اس کی وجہ صاف ہے کہ ہم فطرتاً جانتے ہیں کہ ان طبعی امور کا نام اخلاق نہیں ہے بلکہ اخلاق کچھ اور شئے ہیں اس وجہ سے ہم انسانوں کو بااخلاق کہتے ہیں او رجانوروں کو نہیں۔اب یہ سوال ہے کہ وہ کونسا فرق ہے جس کی وجہ سے ایک انسان میں جب وہ امور پائے جائیں تو اخلاق فاضلہ کہلاتے ہیں اور جانوروں میں پائے جائیں تو اخلاق فاضلہ نہیں بلکہ طبعی تقاضے کہلاتے ہیں؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ طبعی تقاضے جب عقل اور مصلحت کے ماتحت آئیں تب ان کو اخلاق کہتے ہیں ورنہ نہیں۔اور چونکہ انسان سے امید کی جاتی ہے کہ اس کے تمام کام عقل اور مصلحت کے ماتحت ہوں گے کیونکہ یہی خاصیتیں اس کو دوسرے حیوانوں سے ممتاز کرنے والی ہیں اس لئے جب انسان ان تقاضوں کو استعمال کرتا ہے تو بطور حسن ظنی اس کو اخلاق کہا جاتا ہے ورنہ بسا اوقات ہو سکتا ہے کہ ایک انسان کا فعل بھی طبعی تقاضے کے ماتحت ہو اور اس وجہ سے اخلاق میں شامل نہ ہو اور یہ امر کہ بعض لوگ ایسے نرم ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے کوئی کچھ کرے وہ کچھ نہیں بولتے اور بعض لوگ بالطبع ایسے ہوتے ہیں کہ ہر اک امر جس کا ارادہ کر لیں اس سے پیچھے نہیں ہٹتے۔اب ان دونوں شخصوں کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نہایت ہی اعلیٰ اخلاق کے ہیں کیونکہ ان دونوں سے یہ فعل کسی ارادے کے ماتحت سرزد نہیں ہوتے بلکہ وہ ایسا کرنے پر مجبورہوتے ہیں اسی طرح ایک شخص مثلاً جس کی زبان نہیں وہ کسی کو گالی نہیں دیتا۔یا مثلاً جس شخص کے ہاتھ نہیں وہ کسی کو مارتا نہیں تو اس کو نہایت اعلیٰ اخلاق کا آدمی نہیں کہا جائےگا۔غرض اخلاق کی تعریف یہ ہے کہ طبعی تقاضوں کو برمحل استعمال کیا جائے نہ یہ کہ طبعی تقاضوں کو استعمال کیا جائے۔پس جب اخلاق کی تعریف ہمیں معلوم ہو گئی تو ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ جو مذہب ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم نرمی کرو، یا یہ کہ دلیری کرو، یا عفو کرو، یا یہ کہ محبت کرو وہ ہمیں اخلاق نہیں سکھاتا بلکہ وہی باتیں سکھاتا ہے جو ہماری طبیعت میں پیدائش سے موجود ہیں۔کیا جانور نرمی نہیں کرتے؟ کیا وہ دلیری نہیں دکھاتے کیا وہ عفو سے کام نہیں لیتے؟ کیا وہ محبت نہیں کرتے؟ کیا وہ ہمدردی نہیں کرتے؟ ہم نے تو بارہا دیکھا ہے کہ ہر ایک زخمی جانور کے پاس دوسرا جانور آ بیٹھتا