انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 222

۲۲۲ کہ کسی سچی کوشش اور محنت کے نتیجہ میں۔مجھے بعض مذاہب کے پیروؤں پر جب وہ اپنے مذہب کی اخلاقی تعلیموں کو ایک جگہ جمع کر کے لوگوں میں پھیلاتے اور اس پر فخر کرتے ہیں اور ان کو اپنے مذہب کی سچائی کی دلیل قرار دیتے ہیں نہایت ہی تعجب ہوا کرتا ہے کیونکہ واقع یہ ہے کہ ان کو ان تعلیموں میں کوئی امتیاز حاصل نہیں۔تمام مذاہب خواہ وہ کیسے ہی پرانے ہوں اور خواہ کیسے ہی غیر تعلیمیافتہ علاقوں میں اور زمانوں میں انہوں نے نشو و نما پایا ہو ان مسائل میں ان سے اشتراک رکھتے ہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ جو قومیں مذۃب کو سمجھ بھی نہیں سکتیں اور تعلیم سے بالکل کوری ہیں اور وحشیوں میں گنی جاتی ہیں اگر ان کا عمل نظر انداز کر دیا جائے اور آرام سے بٹھا کر اور آہستگی سے ان میں اخلاق کے متعلق پوچھا جائے تا وہ گھبرا نہ جائیں تو وہ بھی اخلاق کے متعلق وہی امور بتائیں گی جو متمدن مذاہب پیش کرتے ہیں۔پس اس امر پر اپنے مذاہب کی سچائی کی بنیاد رکھنا جو مذاہب علمیہ تو الگ رہے وحشی اقوام میں بھی مشترک ہے بالکل غیر معقول بات ہے۔اخلاقی تعلیم کا مقابلہ کرنے کے لئے جن امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے وہ اخلاق کی تفاصیل، اخلاق کے اسباب، اخلاق کے حصول کے ذرائع، بدیوں سے بچنے کے ذرائع اور اس قسم کے اور امور ہیں۔اس کے بعد میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اخلاق کی تعریف سمجھنے میں لوگوں کو بہت کچھ دھوکا لگا ہوا ہے او را سکی وجہ سے بھی صحیح موازنہ اخلاقی تعلیم کا نہیں ہو سکتا۔عام طور پر لوگوں میں یہ احساس ہے کہ محبت اور عفو اور دلیری وغیرھا اچھے اخلاق ہیں اور غضب اور نفرت اور سختی اور خوف وغیرھا برے اخلاق ہیں حالانکہ یہ بات نہیں۔یہ تمام امور طبعی ہیں اس لئے ان کو اچھا یا برا کہنا درست ہیں نہ محبت کوئی خلق ہے، نہ عفو کوئی خلق ہے، نہ دلیری کوئی خلق ہے، نہ سختی، نہ خوف، نہ نفرت کوئی خلق ہیں یہ سب انسان کے طبعی تقاضے ہیں بلکہ حیوان کے طبعی تقاضے ہیں۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب تقاضے جانورو ں میں بھی پائے جاتے ہیں جانور بھی محبت کرتے ہیں عفو کرتے ہیں، دلیری دکھاتے ہیں، سکتی کرتے ہیں، خوف کھاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں مگر کوئی شخص نہیں جو یہ کہے کہ یہ گائے بہت اعلیٰ اخلاق کی ہے یا یہ بکری بہت ہی اچھے اخلاق رکھتی ہے یا یہ گھوڑا بہت ہی وسیع الاخلاق ہے۔جانوروں کی تعریف کرتے ہوئے ہم انہی امور کو جو انسان میں پائے جاتے ہیں انہیں اخلاق فاضل قرار نہیں دیتے بلکہ ان کی طبعی عادات قرار دیتے ہیں۔پس غور کا مقام ہے کہ یہ فرق کیوں ہے؟ جو باتیں انسان میں اخلاق فاضلہ ہیں کیوں وہی