انوارالعلوم (جلد 8) — Page 220
۲۲۰ مقصد دوم : اخلاق: اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ مقصد بھی پہلے مقصد کے تابع ہے کیونکہ جس شخص کو خدا تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہو جاتی ہے وہ بدی کے قریب بھی نہیں جاتا اور جس قدر کوئی شخص بدی میں ملوث ہوتا ہے اسی قدر وہ حجاب میں ہوتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ (النساء:18) وہ لوگ جو گناہ کرتے ہیں بوجہ قلت معرفت کے یعنی گناہ کا اصل باعث معرفت کی کمی ہے۔عقل انسانی بھی قرآن کریم کے اس دعویٰ ی تائید کرتی ہے کہ کوئی شخص دانا سمجھتے بوجھتے ہوئے آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔جسے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے مین زہر ہے وہ اسے کبھی نہیں کھاتا جسے یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں مکان کی چھت یقیناً اس وقت گر جائے گی جب وہ اندر داخل ہونے لگا گا وہ کبھی اس میں داخل نہیں ہو گا، جسے معلوم ہے کہ فلاں سوراخ میں سانپ ہے وہ کبھی اس میں ہاتھ نہیں ڈالے گا، جو جانتا ہو گا کہ فلاں غار میں شیر بیٹھا ہے وہ اس میں بِلا ہتھیار کے کبھی داخل نہ ہو گا پس جب لوگ آگ اور سانپوں اور شیروں اور زہروں سے اس قدر ڈرتے ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ اگر ان کو خدا تعالیٰ کا کامل عرفان ہو اور معلوم ہو کہ سب بدیاں اور بد اخلاقیاں زہروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر اور شیروں اور سانپوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے خطرناک تو وہ ان کے ارتکاب پر اس قدر دلیری کریں گے کہ گویا وہ ایک لذیذ طعام ہے کہ جن کے کھانے پر ان کی زندگی کا انحصار ہے؟ پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ ارتکاب بدی بوجہ جہالت اور کمیٔ عرفان کے ہے اور جو مذہب عرفان پید کر دے گا وہ گویا اپنے ماننے والوں کے لئے اخلاق کامل کے حصول کا دروازہ بھی کھول دے گا۔مگر چونکہ اس مضمون کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور اکثر لوگ اس سے دلچسپی رکھتے ہیں اور چونکہ بہت سے لوگ اجمالی نکتہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ کسی قدر تشریح کے محتاج ہوتے ہیں میں اختصار کےساتھ اس مقصد کے متعلق جو اسلام کی تعلیم ہے اس کو بھی بیان کرتا ہوں۔میں نے ذات باری کے متعلق اسلامی تعلیم بیان کرتے ہوئے توجہ دلائی تھی کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق اجمالی بیانات میں مختلف مذاہب کا اتفاق ہمیں کوئی علمی نفع نہیں دیتا۔جس امر کی دنیا کو ضرورت ہے وہ اسمائے الٰہیہ کی تفصیل ہے۔پس صرف تفصیل میں اتفاق، اتفاق کہلا سکتا ہے