انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 197

۱۹۷ اور خواہش کی کہ خدا تعالیٰ ان امور کو اسی طرح ظاہر کرے۔پھر آپ نے خد اتعالیٰ کو متمثل دیکھا اور وہ کاغذ اس کے سامنے رکھ دیا کہ تا وہ اس پر دستخط کرے۔خدا تعالیٰ نے اس پر سرخ سیاہی سے دستخط کر دئیے۔دستخط کرتے وقت قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو اس نے جھاڑا اور اس کے چھینٹے آپ کے کپڑوں پر پڑے۔اس وقت اس خیال سے کہ اللہ تعالیٰٰ نے میری باتوں کو مان کر ان پر دستخط کر دئیے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ جاگ اٹھے۔اس پر ایک شخص میاں عبد اللہ صاحب نے جو اس وقت آپ کے پاؤں دبا رہے تھے آپ کو آپ کے کپڑوں پر سرخ نشان دکھائے جو تازہ سرخ سیاہی کے تھے اور پوچھا کہ ابھی دباتے ہوئے میں نے یہ سرخی جو ابھی تازہ ہے کیونکہ ایک قطرہ کو میں نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو وہ گیلی تھی دیکھی ہے یہ کیا امر ہے؟ کیا آپ نے کچھ دیکھا ہے؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو وہ کشف سنایا۔یہ قطرے آپ کے کُرتے پر اور مولوی عبد اللہ صاحب گرد اور ریاست پٹیالہ جو اس وقت آپ کو دبا رہے تھے کی ٹوپی پر پڑے تھے۔چنانچہ اس نشان کی یاد میں مولوی عبد اللہ صاحب نے وہ کُرتہ مسیح موعود سے لے لیا تاکہ اس نشان کی یادگار کے طور پر رہے اور آپ نے اس شرط پر ان کو دیا کہ وہ اپنی وفات کے وقت اس کو اپنے ساتھ ہی دفن کرنے کی وصیت کر جائیں تا بعد میں اس کے ذریعہ سے شرک نہ پھیلے۔میں نےمولوی عبد اللہ صاحب سے جو اللہ تعالیٰٰ کے فضل سے ابھی تک زندہ ہیں پوچھا ہے کہ آیا سیاہی وغیرہ کے گرنے کا وہاں کوئی ظاہری امکان بھی تھا۔مگر وہ بیان کرتے ہیں کہ اس کمرہ کی چھت بھی صاف تھی اور میں نے اس خیال سے کہ کہیں چھپکلی کی دم کٹ کر اس کے خون کے قطرے نہ گرے ہوں اسی وقت اوپر دیکھا بھی تھا مگر مجھے اوپر کوئی نشان نہیں ملا اور نہ چھت ایسی تھی کہ اس پر اس قسم کی کوئی صورت پیدا ہو سکتی تھی اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کمرہ میں بھی کوئی اور چیز نہ تھی نہ دوات نہ کوئی اور چیز۔مولوی عبد اللہ صاحب جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اب تک زندہ ہیں اور اس کُرتے کو انہوں نے اب تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور حلفی طور پر اس واقعہ کی گواہی دیتے ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ ہم لوگوں کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی واقع میں کوئی شکل ہے۔یا یہ کہ وہ بھی دستخط کرتا ہے یا قلم اور سیاہی استعمال کرتا ہے یا یہ کہ کُرتے پر جو نشان پڑے تھے وہ فی الواقع اس سیاہی کے داغ تھے جو اللہ تعالیٰ نے استعمال کی بلکہ ہم تو جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے خدا تعالیٰ کو بے مثل مانتے ہیں اور تمثل اور حلول سے پاک سمجھتے ہیں ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جو کچھ