انوارالعلوم (جلد 8) — Page 198
۱۹۸ آپ نے دیکھا وہ ایک کشف تھا خدا تعالیٰ کی صورت جو دکھائی گئی وہ تصویری زبان میں اس تعلیم کا تجسم تھا جو خدا تعالیٰ کو آپ سے تھا اور دستخط وغیرہ سے بھی یہی مراد تھی کہ آپ کا مدعا اور آپ کی خواہشات خدا تعالیٰ پوری کرے گا۔اور سیاہی جو آپ کے کپڑوں پر گری بلکہ اس شخص پر بھی گری جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ بھی واقع میں خدا تعالیٰ جو آپ کے کپڑوں پر گری بلکہ اس شخص پر بھی گری جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ بھی واقع میں خدا تعالیٰ کے قلم کی سیاہی نہ تھی کیونکہ خدا تعالیٰ تو نہ قلم استعمال کرتا ہے نہ سیاہی بلکہ وہ رنگ خدا تعالیٰ نے اپنی صفت خلق کے ساتھ خارج میں پیدا کر کے گرا دیا تھا تا وہ آپ کے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی ایک نشان ہو اور خدا تعالیٰ کی صفت خلق پر یقین کیا جا سکے اور لوگ سمجھ سکیں کہ اللہ تعالیٰ بلا ظاہری سامانوں کے اشیاء کو پیدا کر سکتا ہے اور اس کی صفت خلق آج بھی اسی طرح اپنا کام کر رہی ہے اور کر سکتی ہے جس طرح کہ ابتدائے پیدائش میں وہ کام کرتی تھی۔اب میں ایک نشان آپ کا ایسا پیش کرتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح خدا پیدا کرتا ہےاسی طرح جب وہ حکم دیدے کہ یہ امر نہ ہو تو وہ نہیں ہو سکتا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صفت خلق کُلّی طور پر اللہ تعالیٰ میں ہی پائی جاتی ہے اور اس کے کسی غیر کو اس میں دخل نہیں ہے کیونکہ اگر غیر کو بھی حصہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کے باوجود کہ فلاں کام نہ ہو ان ہستیوں کے ذریعہ سے وہ کام ہو سکتا تھا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آپ کا ایک دشمن سعد اللہ نامی تھا جو لدھیانہ کے مشن سکول میں مدرس تھا سخت بدگو تھا۔ہمیشہ آپ کے خلاف نظمیں اور مضمون شائع کرتا رہتا تھا اور ان میں ایسی گندی گالیاں دیتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ شرفاء ان گالیوں کو خیال میں بھی لا سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اس کی نسبت فرماتے ہیں کہ شاید اور کسی شخص نے کسی نبی کو اس قدر گالیاں نہ دی ہوں گی۔جس قدر کہ اس شخص نے مجھے گالیاں دی تھیں انہی گالیوں کے ساتھ یہ شخص یہ بھی شائع کرتا رہتا تھا کہ چونکہ مرزا صاحب نعوذ باللہ من ذالک جھوٹے ہیں اس لئے وہ تباہ ہو جائیں گے اور اپنی اولاد کی نسبت جو خبریں شائع کرتے ہیں وہ بھی پوری نہ ہوں گی اور وہ نامراد ہی رہیں گے۔جب اس شخص کی گالیاں حد سے بڑھ گئیں اور بہتوں کے لئے یہ شخص ٹھوکر کا موجب ہوا تو حضرت مسیح موعود نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ خدایا اس شخص کے لئے کوئی نشان ظاہر کی۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے آپ کی دعا سن لی اور چونکہ یہ شخص ہدایت سے دور ہو چکا تھا اور خود