انوارالعلوم (جلد 8) — Page 138
۱۳۸ اَحَد ہے یعنی کوئی چیز اس کی ہمسر نہیں ہے وہ وَاحِد ہے تمام اشیاء اس کے حکم سے نکلی ہیں۔وہ سب کی ابتدائی کڑی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اور بہت سے نام قرآن کریم میں بیان فرمائے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک ایسے کامل خدا کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے جو ان دونوں خوبیوں کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے یعنی محبت اور خوف کے موجبات کو جن کے بغیر کبھی کامل تعلق پیدا ہی نہیں ہوتا۔ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ کامل اطاعت او رکامل اتحاد ہمیشہ دو ہی ذریعوں سے ہوتا ہے محبت سے یا خوف سے۔بیشک محبت کا تعلق اعلیٰ او راکمل ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی طبائع صرف خوف سے مانتی ہیں۔پس جب تک کوئی مذہب صفات غضبہ اور صفات محبت دونوں پر زور نہ دے اور دونوں کو پیش نہ کرے کبھی وہ مذہب تمام دنیا کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔اگر اصلاح ہمارے مدنظر ہو تو ہم صرف یہ نہیں دیکھیں گے کہ اعلیٰ طبقہ کے لوگوں کے لئے کسی کام کے کرنے کا کیا محرم ہوتا ہے بلکہ ہمیں اعلیٰ او ر ادنیٰ دونوں قسم کے لوگوں کے حالات کو مدنظر رکھنا ہو گا ورنہ ہم اصلاح کے کام میں ناکام رہیں گے۔بلکہ حق تو یہ ہے کہ اعلیٰ طبقہ کے لوگ تو خود ہی ہدایت کی طرف مائل ہوتے ہیں ہمیں زیادہ فکر ان لوگوں کی رکھنی پڑے گی جو ادنیٰ حالات میں گرے ہوئے ہیں اور ان کی فطرتیں مسخ ہو گئی ہیں اور وہ اپنے فرائض کو بھول گئے ہیں۔ایسے لوگ اکثر اوقات سوائے شاذ و نادر کے خوف سے ہی مانتے ہیں اور جب تک ان کے سامنے نقصان کا اندیشہ موجود نہ ہو اصلاح کی طرف مائل نہیں ہوتے۔پس وہ مذہب جو اللہ تعالیٰ سے تمام بندوں کا تعلق پید اکرنا چاہے اس کے لئے ضروری ہے کہ فطرت کا لحاظ رکھے اور اسلام نے جس خوبی سے صفات الٰہیہ کے بیان کرنے میں اس توازن کو قائم رکھا ہے وہ یقیناً ہر ایک قسم کی طبائع کے علاج پر مشتمل ہے اور اس سے مکمل علاج اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔اس نے خد اتعالیٰ کی صفات غضبیہ کو بھی پیش کیا ہے اور صفات رحمت کو بھی مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا دیا ہے کہ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الأَعراف:157) میری رحمت ہر اک چیز پر غالب ہے۔آخر میری رحمت میرے غضب کو مٹا دیتی ہے کیونکہ میرا غضب بغرض اصلاح ہوتا ہے نہ دکھ دینے کے لئے۔یہ تعلیم اللہ تعالیٰ کی ذات کی نسبت جیسی مکمل اور اعلیٰ ہے ظاہر ہے۔جو غرض مذہب کی ہے وہ اس تعلیم سے بوجہ احسن پوری ہوتی ہے مگر پھر بھی یہ تعلیم امتیازی نہیں۔جہاں تک میں سمجھتا