انوارالعلوم (جلد 8) — Page 139
۱۳۹ ہوں اکثر مذاہب سوائے تھوڑے تھوڑے اختلافات کے لفظاً اسی تعلیم کو پیش کرتے ہیں اور سطحی نگاہ سے دیکھنے والا انسان حیران ہو جاتا ہے کہ پھر آپس میں اختلاف کوں ہے۔لیکن بات یہ ہے کہ یہ دھوکا کہ سب مذاہب ایک ہی سی تعلیم پیش کرتے ہیں اس امر سے لگتا ہے کہ بہت لوگ فطرت انسانی کو اس فیصلہ کے وقت نظر انداز کر دیتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی فطرت میں یہ خاصہ رکھا گیا ہے کہ بعض امور کو وہ بِلا خارجی مدد کے قبول کر لیتی ہے یا رد کر دیتی ہے ایسے امور کو بدیہیات کہتے ہیں۔گو بعض فلسفی ان کے بدیہی ہونے کے بھی منکر ہوں لیکن عوام الناس ان کے متعلق کوئی شبہ نہیں رکھتے کیونکہ وہ ان کی طبیعت ثانیہ ہو گئے ہیں۔ایسے امور کے خلاف بات کہہ کر کوئی شخص کامیاب ہونے کی امید نہیں کر سکتا۔انہی امور میں سے ایک یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان الا ما شاء اللہ اس امر پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک کامل وجود ہے جس میں کوئی نقص نہیں۔اب اگر کوئی مذہب یہ دعویٰ کرے کہ نہیں خدا تعالیٰ میں بھی فلاں فلاں نقص ہے یا فلاں فلاں خوبی اس میں نہیں ہے تو کبھی بھی لوگ اس مذہب کی طرف توجہ نہ کریں۔اس لئے مذاہب میں ان ناموں کے متعلق اس قدر اختلاف نہیں ہو سکتا جو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں بلکہ مذاہب کا اختلاف ان تفصیلات میں ہوتا ہے جو ان ناموں کی تشریح میں مختلف مذاہب کے پیرو کرتے ہیں اور اس اتحاد کی وجہ یہ نہیں کہ واقع میں سب مذاہب کی تعلیم اس بارے میں ایک ہے بلکہ اس کی وجہ وہ قلبی احساس ہے کہ لوگ ان ناموں کے سوا دوسرے ناموں کو سننے کے لئے تیار نہیں۔پس مذاہب کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیشہ ان تفاصیل کو دیکھنا چاہئے جو ان ناموں کے متعلق مختلف مذاہب نے بیان کی ہیں۔مثلاً مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اور اس کو اس کے دائرہ استعداد کے اندر ترقی دینے والا ہے مگر اس کی تشریح میں مختلف مذاہب میں بڑا فرق ہے چونکہ میں اس وقت احمدیت کی تعلیم کو بیان کر رہا ہوں میں اس صفت کے ماتحت جو اسلام نے تعلیم دی ہے اس کو بیان کر دیتا ہوں۔یہ بات واضح ہے کہ اس صفت کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص جماعت کا خدا نہیں بلکہ وہ تمام مخلوق کا رب ہے اور اس وجہ سے اسے صرف پیدائش کی وجہ سے کسی خاص قوم سے تعلق نہیں ہو سکتا بلکہ سب انسان بحیثیت انسان ہونے کے اس کے لئے برابر ہیں۔جس طرح وہ یورپ کے لوگوں کی ربوبیت کرتا ہے ایشیا کے لوگوں کی بھی کرتا ہے جس طرح امریکہ کے