انوارالعلوم (جلد 8) — Page 125
۱۲۵ ہے او رہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ و مراتب رکھتا ہے اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہرگز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں۔زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔حضر ت مسیح نے اسی حالت میں یہود کو پایا تھا اور جیسا کہ ضعفِ ایمان کا خاصہ ہے یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خد اکی محبت ٹھنڈی ہو گئی تھی۔اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے سو میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی او رایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔سو یہی افعال میرے وجود کی علت غائی ہیں۔مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین کے نزدیک ہو گا بعد اس کے کہ بہت دور ہو گیا تھا سو میں انہی باتوں کا مجدد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ آپ اس لئے دنیا کی طرف بھیجے گئے کہ تا: "دنیا کو اخلاقی اور اعتقادی اور علمی اور عملی سچائی کی طرف کھینچا جائے اور نیز یہ کہ وہ خاص کشش سے ایسے طور سے کھنچ جائیں کہ ان امور کی بجا آوری میں ان کو ایک قوت حاصل ہو۔" پھر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کی اولاد میں سے ایک اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا، یعنی اس کے ذریعہ سے بہت سی قومیں اور جماعتیں اور ملک جو دوسری قوموں اور جماعتوں یا حکومتوں کے ظلم کے نیچے دبی ہوئی ہوں گی ظلموں سے نجات پائیں گی اور اپنی اپنی قیدوں سے آزاد کی جائیں گی اور خدا تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور کر کے ان کو راحت اور آرام کی زندگی نصیب کرے گا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ آپ کا کام یہ ہے کہ اول "تمام قوموں پر اسلام کی سچائی کی حجت پوری کریں"۔دوم۔"اسلام کو غلطیوں اور الحاقاتِ بے جا سے منزہ کر کے وہ تعلیم جو روح و راستی سے بھری ہوئی ہے خلق اللہ کے سامنے رکھیں۔"سوم۔"ایمانی نور کو تمام قوموں کے مستعد دلوں کو بخشیں۔" ان تمام دعاوی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا کام کامل توحید کی اشاعت اور نیکی اور تقویٰ کا قیام اور دلوں میں خشیت اللہ کا پیدا کرنا اور خدا تعالیٰ سے بندوں کا تعلق مضبوط کرنا اور شک اور