انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 96

۹۶ اس وقت مندر کے پاس شور نہ کیا جائے۔کیونکہ ایسی صورت میں آزادی کا سوال نہیں رہتا بلکہ عملی ضرر کا سوال ہو جاتا ہے شور کی وجہ سے عبادت گزار عبارت نہیں کر سکتے اور شرافت کا تقاضا ہے کہ دوسرے کے کام میں حرج نہ کیا جائے۔دوسری شرط یہ ہونی چاہئے کہ ایک دوسرے کے بزرگوں کو گالیاں نہ دی جائیں۔گالیاں دینا ہرگز کسی قوم کا فرض نہیں ہو سکتا اور اس سے زیادہ غیر شریفانہ بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ ایک دوسرے کے بزرگوں کو گالیاں دی جائیں۔بانی سلسلہ ام به حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے عرصہ ہوا کہ اس سوال کو گورنمنٹ اور پبلک کے سامنے پیش کیا تھا۔کہ ہندوستانؤ میں اکثر فساد مذ ہبی اختلافات کے باعث سے ہوتے ہیں اور ان میں سے بھی ایک بڑا حصہ اس بد زبانی کے سبب سے ہوتا ہے جو ایک مذہب کے پیرو دو سرے مذہب کے بزرگوں کی نسبت کرتے ہیں۔واقعات برابر اس صداقت پر سے پردہ اٹھاتے چلے آئے ہیں اور اب جبکہ حق کھل چکا ہے ہمارا فرض ہے کہ مابین الا قوام صلح کی تجاویز کرتے وقت اس ضروری امر کو نظرانداز نہ ہونے دیں۔کون شخص اس صداقت کا انکار کر سکتا ہے کہ ہمارے ہندوؤں میں سے آریہ لوگ جس طرح رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں اس کا برداشت کرنا ایک غیرت مند انسان کے لئے ناممکن ہے اگر مسلمان، مسلمان کہلانا چاہتے ہیں تو ان کے دلوں میں رسول کریم ﷺ کے لئے غیرت بھی ہونی چاہئے ورنہ مسلم کہلانے سے کیا فائدہ اور مسلم لیگ بنانے کی کیا غرض ہے؟ مسلمانوں کی ہستی رسول کریم ﷺکے وجود میں مخفی ہے اگر آپ کی عزت کا ہم لوگوں کے دلوں میں خیال نہ ہو تو ہمارے مسلمان کہلا کر دنیا میں ایک الگ جماعت بنانے کا کیا فا ئدہ ؟تب ہمیں ہندو یا مسیح ہو جانا چاہئے کہ وہ قو میں ہم سے زیادہ اور طاقتور ہیں مسلم کہلانے کی تواسی وقت تک ضرورت ہے جب اسلام میں ہمیں کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے جو دوسری جگہ نہیں ملتی اور جب تک اسلام میں ہمیں کوئی بھی خوبی نظر آتی ہے رسول کریمﷺ کی محبت اور آپ کے نام کے لئے غیرت دکھانے کے فرض سے ہم ہرگز سبکدوش نہیں ہو سکتے۔پس صلح کے لئے یہ شرط سب سے پہلے ہونی چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کو خصوصاً اور دوسرے ائمہ اسلام کو عموماً دوسرے مذاہب کے لوگ بد زبانی سے یاد نہ کریں اور اسی طرح مسلمان دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے حق میں بد کلامی نہ کریں بغیر اس کے صلح نہیں ہوسکتی۔جب تک کسی مسلمان کے دل میں ایمان کی خفیف سے خفیف چنگاری بھی جلتی ہے وہ آج نہیں تو کل رسول کریم ﷺکی محبت