انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 95

۹۵ طریق کہلا سکتا ہے کہ انگریز کہیں کہ ہندوستانی انگریزی لباس اختیار کر لیں اور انگریزی زبان کو اپنی زبان بنالیں تو ہم ان کو حکومت دیدیتے ہیں اگر انگریزوں کی طرف سے ایسا مطالبہ درستہو سکتا ہے تو ہندوؤں کا مطالبہ بھی درست ہو سکتا ہے۔مگر جس طرح انگریز اگر مذکورہ بالا مطالبہ کریں تو وہ درست نہ ہو گا اسی طرح ہندوؤں کا مطالبہ بھی نادرست ہے۔خواہ کوئی کتنا بڑالیڈرہی کیوں نہ ہو وہ قانون قدرت کے خلاف نہیں جاسکتا اور یہ قانون قدرت ہے کہ صلح دوسرے کے خیالات یا اعمال کے چُھڑوانے سے نہیں ہو سکتی بلکہ صرف اس طرح ہوسکتی ہے کہ ایک دوسرے کے ذاتی اعمال میں دخل نہ دیا جائے۔ہندوؤں کا مسلمانوں سے گائے کی قربانی یا اس کے ذبح کے ترک کا مطالبہ کرنا ہرگز صلح کا موجب نہیں ہو سکتا ان کا کوئی حق نہیں کہ وہ مسلمانوں کے ذاتی کاموں میں اور ان کے اپنے اموال کے خرچ میں دخل دیں اور مسلمانوں کا کوئی حق نہیں کہ سکھوں ہندوؤں یا اور کسی قوم کے کاموں میں دخل دیں۔ایک ہندو اگر مسلمانوں کے افعال میں دخل دیئے بغیر صلح کے لئے تیار نہیں تو وہ ہرگز صلح کا جو یاں نہیں اور ایک مسلمان اگر ہندو کے کاموں میں دخل دیئے بغیر صلح کرنے کے لئے تیار نہیں تو وہ ہرگز صلح کا طالب نہیں۔ہندوؤں کا کوئی حق نہیں کہ وہ صلح کی شرائط میں گاؤ کشی کی بندش کو پیش کریں اور مسلمانوں کا کوئی حق نہیں کہ وہ جھٹکے پریاسؤر کا گوشت بِکنے پر اعتراض کریں۔اگر ہندوؤں کو گائے کے ذبح کرنے سے تکلیف ہوتی ہے تو ایک مسلمان کو بت پرستی اور سود کے لینے دینے پر تکلیف ہوتی ہے کیا ہندو مسلمانوں کی خاطر بت پرستی با سود کا لین دین چھوڑ دیں گے۔خلاصہ یہ کہ صلح اس طرح نہیں ہو سکتی کہ ایک دوسرے سے ان کے اعمال چُھڑوائے جائیں بلکہ اس طرح کہ کوئی فریق دوسرے کے مذہبی امور میں دخل نہ دے۔پس آئند ہ بنیاد سلی اس امر کو مد نظر رکھ کر ڈالنی چاہئے ورنہ وہ غیر طبعی ہوگی اور کبھی کامیاب نہ ہو سکے گی۔ہر مذہب کے پیروؤں کو اپنے ذاتی اعمال میں پوری آزادی ہونی چاہئے۔مسلمانوں کو دسہروں وغیرہ کے جلوسوں پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے خواہ وہ کہیں سے نکالے جاویں اور ہندؤں کو تعزیوں وغیرہ پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے خواہ وہ کہیں سے نکالے جاویں اسی طرح مساجد کے پاس سے اگر جلوس نکلیں تو مسلمانوں کے اس پر چِڑنے یاناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں یہ سب بچوں کی سی باتیں ہیں سمجھدار لوگوں کو ان سے پرہیز کرنا چاہئے ہاں یہ ضرور ہے کہ جس وقت مسلمان با جماعت عبادت کر رہے ہوں اس وقت مساجد کے پاس اور جس وقت ہند و با جماعت عبادت کر رہے ہوں