انوارالعلوم (جلد 7) — Page 61
۶۱ نجات سے بھاگ جاتے ہیں؟ پس عذاب وہ ہوتا ہے جس کو انسان ہٹانا چاہتا ہے مگر دنیا کی بہت کی ایسی تکلیفیں ہیں کہ جن کو انسان خودلینا چاہتا ہے اور ان سےہٹنانہیں چاہتا۔کسی موجد سے کہو تم کیوں مصیبت میں مبتلاء ہو تکالیف اٹھا کر ایجادیں کر رہے ہو؟ کیا اس بات سے وہ محنت کرنا چھوڑ دے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ چھڑانے کی تحریک کرنے والے کو جاہل کہے گا کیونکہ اس کو اس تکلیف میں بھی مزا آرہا ہو تا ہے۔جب یہ صورت ہے تو پھر طبعی تکالیف کو عذاب کس طرح مان لیا جائے۔پس ان کو عذاب نہیں کہہ سکتے۔ایک اعتراض کا جواب اس جگہ ایک اعتراض پڑ سکتا ہے اور وہ یہ کہ یہ بھی تو عذاب ہے کہ کاموں میں کامیابی کے حصول کے لئے تکلیف رکھ دی گئی ہے اور چونکہ کام کرنے ضروری ہیں اس لئے انسان ان تکالیف کو بھی بُھگت رہا ہے۔مگر یہ اعتراض درست نہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ اگر یہ دقتیں اور تکلیفیں نہ ہوتی تو محبتیں بھی نہ ہوتیں۔اگر ماں کو بچہ کی پرورش کی تکلیف نہ ہوتی تو ان میں محبت بھی نہ ہوتی۔پس یہ تکالیف تو محبت اور موانست کے بڑھانے کے لئے ہیں۔پھر اگر علم کے حصول میں محنت نہ ہوتی تو لوگوں کے مختلف مدارج کس طرح ہوتے؟ مارکونی اور ایڈیسن کو جو شہرت حاصل ہے وہ کس طرح ہوتی؟ایک چوہڑہ بھی ایساہو تا جیسے وہ ہوتے۔پھر اگر زندگی کو دیکھا جائے تو یہ نام ہی ہے چند تکالیف کے اٹھانے اور ان سے ثمرات حاصل کرنے کا۔پس جس چیزکانام زندگی ،مزا اور لطف ہے اس کو عذاب کس طرح کہا جاسکتا ہے؟ پس وہ تکالیف ہیں۔مگر عذاب نہیں ہیں۔پھر بعض دنیاوی تکالیف شرعی قانون کے ماتحت آتی ہیں۔عربی میں ان کو ابتلاء کہتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ابتلاء برے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے اس لئے میں ان تکالیف اور ابتلاؤں کو الگ الگ کردیتا ہوں۔ایک قسم کی تکالیف انعام کے طور پر آتی ہیں اور ایک قسم کی عذاب کے طور پر۔چنانچہ دیکھ لو مختلف قوموں کے جتنے بڑے بزرگ گذرے ہیں ان کی زندگیاں مشکلات میں ہی گزری ہیں۔ہندو کہتے ہیں اس دنیا کی مشکلات عذاب ہیں۔ہم کہتے ہیں حضرت کرشنؑ اور رام چندرؑ تو پاک اور نیک انسان تھے ان کو دوسروں کی نسبت کیوں زیادہ تکالیف اٹھانی پڑیں؟ ان کو تو بالکل نہیں ہونی چاہئیں تھیں مگر ماننا پڑے گا کہ دنیا کی تکالیف بزرگوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ اٹھانی پڑتی ہیں اور یہ عذاب نہیں ورنہ کہنا پڑے گا کہ نعوذ باللہ وہ سب سے زیادہ