انوارالعلوم (جلد 7) — Page 60
۶۰ نجات (۱) کیادنیوی عذاب سے نجات مل سکتی ہے؟ ہندوستانی نقطہ نگاہ سے (اس سےمراد جینی - بدھ - ہندو وغیرہ ہیں) نہیں ہو سکتی کیونکہ جب تک انسان جون میں ہے وہ عذاب میں رہے گا۔یہودی اور عیسائی نقطہ نگاہ سے ہو سکتی ہے مگر اسلام نے اس میں اور بھی وسعت دی ہے اور الگ الگ بتایا ہے کہ دنیا میں دو قانون جاری ہیں۔ایک طبعی۔مثلاً پانی پیا اور پیاس بجھ گئی اور ایک شرعی کے خدا کا عذاب کسی رنگ میں ظاہر ہو۔اسلام کہتا ہے کہ طبعی قانون کے مطابق جو تکالیف انسان کو پہنچتی ہیں وہ عذاب نہیں کیونکہ عذاب میں خدا تعالی ٰکی ناراضگی داخل ہوتی ہے مگر طبعی تکالیف میں خدا کی ناراضگی شامل نہیں ہوتی اس لئے وہ عذاب ہی نہیں بلکہ وہ انسان کے لئے ضروری ہیں جیسا کہ میں آگے چل کربتاؤں گا۔طبعی تکالیف کیوں آتی ہیں؟ اسلام کہتا ہے (۱) طبعی تکالیف انسان میں مدارج پیدا کرنے لئے آتی ہیں پس جبکہ وہ تکالیف عذاب ہی نہیں تو ان سے نجات کیسی؟ وہ تو مدارج میں ترقی کے لئے آتی ہیں۔اگر وہ تکالیف نہ ہوتیں تو انسان میں مدارج بھی نہ ہوتے۔مثلاً سارے انسان محنتیں کرتے ہیں اگر ان کی محنتوں میں فرق نہ ہوتا تو پھر ان کے مدارج کا فرق کس طرح ہوتا؟ ایک عالم ہے اور ایک جاہل-پس مدارج کیوں ہیں؟ ان تکالیف کی وجہ سے ہی تو معلوم ہوا کہ دنیاوی تکالیف عذاب نہیں۔جس قدر کوئی زیادہ تکالیف اٹھاتا ہے اسی قدر لوگ اسے بڑا بناتے ہیں پس بعض تکالیف مدارج کی ترقی کے لئے آتی ہیں۔(۲) بعض تکالیف طبعی کام کی خلاف ورزی کی وجہ سے آتی ہیں اور عذاب شرعی احکام کی خلاف ورزی کی سزا کو کہتے ہیں۔یہ کوئی نہ کہے گا کہ اگر کوئی زیادہ کھانا کھالے تو وہ ایک اور جون میں ڈالا جائے گا۔پس جب طبعی قانون کی خلاف ورزی عذاب نہیں تو اس کے لئے نجات بھی نہیں۔(۳) عذاب وہ ہوتا ہے جس سے انسان چاہتا ہے مگر بعض طبعی تکالیف تو ایسی ہوتی ہیں کہ خود انسان ان کو چاہتا ہے۔جیسے ماں بچہ کو لے کر رات کو کھڑی رہتی ہے اس کو کہو کہ سوجاتو اگر وہ مہذب نہیں تو جھاڑو لے کر پیچھے پڑ جائے گی کہ مجھے بچہ کو آرام پہنچانے سے روکا جاتا ہے یا دیکر مجمعوں میں لوگوں کو تکالیف پہنچتی ہیں۔یہاں ہی دیکھ لو کس طرح پچکے جاتے ہیں۔کیا اس وجہ