انوارالعلوم (جلد 7) — Page 42
۴۲ ہیں اور قانون بھی مشکل نظر آتا ہے مگر اس وجہ سے نظام سے ڈرنا نہیں چاہیے اور انتظام کے ماتحت کام کرنا چاہئے۔منتظمین کو ہدایت لیکن جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ لوگ انتظام کی قدر کریں اسی طرح انتظام کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ لوگوں کی مشکلات اور ان کے جذبات کا خیال رکھیں۔ہر جگہ امور عامہ کا صیغہ ہو جو لوگوں کی نگرانی رکھے، اشاعت اسلام کا محکمہ ہو ، تعلیم و تربیت کا محکمہ ہو۔شروع شروع میں اس انتظام میں دقتیں ہوں گی اور لڑائیاں جھگڑے بھی زیادہ ہوں گے مگر آخر میں انتظام اچھا ہو جائے گا اور کام خوش اسلوبی سے چلنے لگ جائے گا۔ججوں کے لئے مشکلات اس وقت تو ججوں کو بعض اوقات فیصلہ میں بھی دقت پیش آتی ہے۔کچھ عرصہ کی بات ہے کہ ایک لڑکی کی شادی اس کی ماں نے اس کی نابالغی کی حالت میں کردی تھی بالغ ہونے پر لڑکی نےفسخ نکاح کی درخواست محکمہ قضاء میں دی۔اس عورت نے قاضی کے متعلق خیال کر لیا کہ فیصلہ میرے خلاف کرے گا وہ اس کے گھرگئی اور جا کر کہہ دیا کہ مجھے تمہارا فیصلہ منظور نہ ہو گا۔جج بھی نیا تھا اس نے کہہ دیا کہ اگر تمہیں میرا فیصلہ منظور نہیں تو میں اس مقدمہ کی تحقیقات میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتا اتا - میں نے اسعورت کو بہت سمجھایا کہ جج کر فیصلہ کرنے دو مگروہ یہی کہتی رہی کہ فیصلہ میرے حق میں ہونا چاہئے یعنی طلاق ملنی چاہئے۔فیصلہ تویہی ہونا تھا کیونکہ میرے نزدیک اسی حالت میں لڑکی کو اختیار ہے کہ خاوند کے گھر جانے سے قبل طلاق لے لے۔مگر انتظام کا تقاضا یہ تھا کہ فیصلہ ہونے سے قبل اسے یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ تمہارے حق میں ہی فیصلہ ہو گا کیونکہ اعلی ٰجج کو حق نہیں ہوتا کہ عدالت ماتحت کے فیصلے سے پہلے اپنے خیالات کا اظہار کر دے تاکہ ان پر اس کی رائے کا اثر نہ ہو۔اس پر اس عورت نے اپنے کسی رشتہ دار کو جو غیراحمدی تھاخط لکھا اور اس نے مجھے لکھا کہ تم بڑے ظالم ہو وغیرہ وغیرہ۔تو اس قسم کی دقتیں شروع میں ہوتی ہیں مگران کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے۔بعض لوگ جوشیلے اور فسادی ہوتے ہیں اور وہ انتظام کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں ان کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔کچھ مدت کے بعد سب انتظام درست ہو جائے گا۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی اس قسم کی وقتیں پیش آجاتی تھیں۔ایک دفعہ ایک مسلمان رسول کریم ﷺ کے پاس اپنا مقدمہ لے کر