انوارالعلوم (جلد 7) — Page 43
۴۳ گیا۔آپ نے اس کے خلاف فیصلہ کیا۔پھر وہ حضرت عمرؓکے پاس لے گیا اور اس طرح وہ اپنے عمل کے لحاظ سے منافق ہوگیا کہ کہلاتا تو مسلمان ہی تھا۔کارکنوں کو نصیحت اس قدر کہنے کے بعد سیکرٹریوں اور دوسرے کارکنوں کو نصیحت کرتاہوں کہ لوگوں سے اخلاق اور نرمی سے پیش آؤ-ہمارے پاس حکومت نہیں ہمیں جو کچھ ملا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام سے ملا ہے اور آپؑ فرماتے ہیں۔’’منہ از بہرما کرسی کہ ماموریم خدمت را‘‘ جب حضرت مسیح موعودؑ یہ فرماتے ہیں۔تو ہمیں بھی اپنے آپ کو لوگوں کا خادم ہی سمجھنا چاہیے پس افسروں کو چاہئے کہ ان کانفس مومنانہ نہ ہو۔میں نے ان لوگوں کی خدمت کے لئے مقرر کیا ہے اس لئے انہیں اپنے بھائیوں کے معاملات پیار اور محبت سے سلجھانے چاہئیں اور اخلاق برتنے چاہئیں۔اور دوسروں کو چاہئے کہ اپنے کارکن بھائیوں پر بد ظنی نہ کریں اور انہیں انتظام قائم رکھنے میں مدددیں۔خد متِ دین کے لئے کمربستہ ہو جاؤ غرض میں آپ لوگوں سے التجاء کرتاہوں کہ آپس میں بھائیوں کی طرح رہو اور دین کی خدمت کے لے کمر بستہ ہو جاؤ۔جو کام ہمارے سپردہو اسے خدا کافضل سمجھو اور یادر کھوخدا ہمارامحتاج نہیں ہمارے کام وہی آئے گا جو ہم یہاں کرجائیں گے۔پس اے عزیزو! پھر اس کے کہ خدا کی رحمت کے دروازے بند ہو جائیں ان میں داخل ہو جاؤ۔تم کلی طور پر خدا کے لئے ہو جاؤ خدا کے لئے سب کام کرو خدا کے لئے مرو اور خدا کے لئے جیئو - خداتعالی ٰمیرے بھی ساتھ ہو اور آپ کے بھی ساتھ - آمین۔۱- الفاتحہ: ۱ تا ۷ ۲- لاخلافة الاعن مشورۃ کنزالعمال جلد۵صفحہ ۶۴۷۸ روایت ۱۴۱۳۶، مطبوعہ حلب۱ ۱۹۷ء ۳۔تکملہ مجمع بحار الانوار جلد۴ صفحہ ۸۵ مطبویه مطبع العلى المنشی نو تر ۳۱۴اه ۴- خطبہ الہامیہ ٹائٹل پیج۔روحانی خزائن جلد۱۶ ۵- خطبہ الہامیہ صفحہ ۷۳- روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۷۳