انوارالعلوم (جلد 7) — Page 592
۵۹۲ اے بادشا! مسیح موعود کی آمد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے وابستہ ہیں اس کے ذریعے سے اسلام کو ایک نئی زندگی دی جائے گی- جس طرح ایک خشک درخت زور کی بارش سے جو وقت پر پڑتی ہے ہرا ہو جاتا ہے اسی طرح مسیح موعود کی آمد سے اسلام سرسبز وشاداب ہو گا اور ایک نئی طاقت اور نئی روح ان لوگوں کو دی جائے گی جو مسیح موعود پر ایمان لائیں گے` اللہ تعالیٰٰ نے دیر تک صبر کیا اور خاموش رہا- مگر اب وہ خاموش نہیں رہے گا وہ کبھی اس امر کی اجازت نہیں دے گا کہ اس کے بندے کو اس کا شریک بنایا جائے` اس کا بیٹا قرار دیکر یا آسمان پر زندہ مان کر یا مردے زندہ کرنیوالا اور نئی مخلوق پیدا کرنیوالا قرار دیکر- وہ رحم کرنیوالا ہے مگر غیرت مند بھی ہے- اس نے دیر تک انتظار کیا کہ اس کی پاک کتاب کی طرف لوگ کب توجہ کرتے ہیں مگر مسلمانوں نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا` وہ اور لغویات کی طرف متوجہ ہو گئے مگر اللہ تعالیٰ کے کلام کی انہوں نے کجھ قدر نہ کی اور یہ آیت ان کو بھول گئی کہ یا رب ان قومی اتخذو اھذا القران مھجورا )فرقان ع۳(31: پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اب وہ اس وقت تک ان کی طرف منہ نہیں کرے گا جب تک وہ اس کے مسیح موعود کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکر اس بات کا اقرار نہیں کرتے کہ وہ آئندہ اس سے بے توجہی نہیں کریں گے اور اپنی پچھلی غلطیوں کا تدارک کریں گے- لوگوں نے دنیا سے محبت کی مگر اللہ تعالیٰ سے محبت نہ کی- تو اللہ تعالیٰٰ نے دنیا بھی ان سے لے لی اور ذلت کی ماران پر ماری` انہوں نے مسلمان کہلا کر اللہ تعالیٰ کے محبوب کو تو زمین میں دفن کیا مگر حضرت مسیح کو زندہ آسمان پر جا بٹھایا تو اس نے بھی ان کو زمین پر مسل دیا اور مسیحیوں کو ان کے سر پر لاکر سوار کیا- یہ حالت ان کی نہیں بدل سکتی جب تک کہ وہ اپنی اندرونی اصلاح نہ کریں- ظاہری تدابیر آج کجھ کام نہیں دے سکتیں` کیونکہ یہ سب تباہی اللہ تعالیٰ کے غضب کے نتیجے میں ہے جب تک مسلمان اللہ تعالیٰ سے صلح نہیں کریں گے اس وقت تک یہ روز بروز ذلیل ہی ہوتے چلے جائیں گے پس مبارک وہ جو اللہ تعالیٰ سے صلح کرنے کو دوڑتا ہے- یقیناً وہ ذلت سے بجایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے ساتھ ہو گی اور اس کا ہاتھ اس کے آگے اگے ہوگا- اے بادشاہ! مسیح موعود ؑکی آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ بہت برا واقع ہے مسیح موعودؑ ہے جسے رسول کریم ؐنے سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ خواہ سخت سے سخت صعوبتیں اٹھا کر بھی اس کے پاس جانا پڑے تب بھی مسلمانوں کو اس کے پاس جانا چاہئیے اس کی