انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 593

۵۹۳ نسبت دنیا کے تمام مذاہب میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں اور کوئی نبی نہیں جس نے اس کی آمد کی خبر نہ دی ہو- پس جس انسان کی اس قدر نبیوں نے خبر دی ہے اور اپنی امتوں کو اس کی آمد کا منتظر کیا ہے وہ کتنا بڑا انسان ہو گا اور کیسا مبارک ہو گا وہ شخص جس کو اس کا زمانہ مل جائے اور وہ اس کی برکتوں سے حصہ پالے- اے بادشاہ! اللہ تعالیٰ کے مامور اور مرسل روز روز نہیں آیا کرتے اور خصوصاً اس قسم کے عالیشان مرسل کہ جس قسم کا مسیح موعود ہے رسول کریم ﷺسے اور کسی شخص کی نسبت اس قدر بشارت مروی نہیں جس قدر کہ اس کی نسبت- پس اس سے بڑے آدمی کی آمد کی ہمیں امید نہیں ہو سکتی- وہ نبی کریم کی امت کے لیے خاتم الخلفاء ہے اور اس کے بعد قیامت کے زمانے ہی کا انتظار کیا جا سکتا ہے پس اس کے زمانے کا ایک ایک دن قیمتی ہے وہ انسان جو اس کی قدر کو سمجھتا ہے اور اس پر ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کی خوشنبودی حاصل کرنا جاہتا ہے کیونکہ وہ اپنی پیدائش کے مقصد کو پا گیا اور عبودیت کا راز اس پر کھل گیا- اے بادشاہ! جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آتا ہے تو اس کی جماعت ہمیشہ یکساں حالت میں نہیں رہتی- وہ غریبوں سے شروع ہوتی ہے اور باشاہوں پر جا کر ختم ہوتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ جماعت اس علاقے پر قابض ہو جاتی ہے جس کی طرف وہ مامور جس نے اس جماعت کو قائم کیا تھا بھیجا گیا تھا- پس ہمیشہ یہی حال نہیں رہے گا کہ ہماری جماعت غرباء کی جماعت رہے` بلکہ یہ دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرے گی- دنیا کی حکومتیں مل کر بھی اس کی رفتار ترقی کو روک نہیں سکتیں- ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ تمام جماعتوں اور فرقوں کو کھا جائے گی جیسا کہ حضرت اقدسؑ ؑکا الہام ہے کہ تیرے ماننے والے قیامت تک تیرے منکروں پر غالب رہیں گے اور جیسا کہ آپ کا الہام کہ وہ لوگوں کو جو آپ کی بیعت میں داخل نہ ہوں گے کم کرتا چلا جائے گا اور ایسا ہو گا کہ دنیا کہ بادشاہ آئندہ اسی جماعت میں سے ہوں گے- یہ مغلوب نہیں رہے گی بلکہ غالب آ جائے گی اور مفتوح نہیں رہے گی بلکہ فاتح ہو جائے گی جیسا کہ حصرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ مگر ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے- ایک ہی کام ایک وقت میں انسان کو بڑی عزت کا وارث بنا دیتا ہے اور دوسرے وقت میں اس کام کو کوئی پوچھتا بھی نہیں- رسول