انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 38

۳۸ کے ہیں اس لئے جو یتیم رہ گیاوہ گویا خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ بے نگران ہو کے رہ گیا۔پھر کیا خدا کے دوسرے بندے کا جو نگرانی کر سکتا ہے یہ فرض نہیں کہ خدا کے اس بندہ کی جو حفاظت کا محتاج ہے حفاظت کرے؟ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک آقا کے کئی نوکر ہوں اور ایک نوکر اونٹ چراتا ہو مگر وہ موجود نہ ہو تو کیا اس وقت دوسرے نوکر کا فرض نہیں ہے کہ آقا کے اونٹ کی حفاظت کرے؟اس کا فرض ہے کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ جس کےسپرداونٹ تھا اس کے ذمہ اس کی حفاظت ہے بلکہ وہ اپنا یہ فرض سمجھے کہ اس کی حفاظت کرنی ہے۔اسی طرح یتامیٰ کی پرورش اور حفاظت ہر ایک مومن کا فرض ہے اور یہ بڑی نیکی ہے۔اسی طرح بیوہ عورتوں کی اعانت بھی ضروری ہے۔اب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں۔جو خداتعالی کے متعلق ہیں۔خداتعالی ٰسے تعلق رکھنے والی نیکیاں نماز، روزه ،حج،زکوٰۃ اور دین کے لئے چند ه دینا ایسی نیکیاں ہیں جو خدا تعالی ٰکے متعلق ہیں بہت لوگ ان میں سستی کر جاتے ہیں۔۱۔نماز ٍاس میں ناغہ قطعاً جائز نہیں ہے۔اگر کوئی انسان اس میں ایک بھی ناغہ کرتا ہے تو اسے توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان بننا پڑے گا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم گھر پر پڑھ لیتے ہیں مگروہی نماز فائدہ دے سکتی ہے جو جماعت کے ساتھ پڑھی جائے۔گھر پر نماز پڑھنے والے کو رسول کریم ﷺ نے منافق قرار دیا ہے۔میں افسوس سے کہتا ہوں کہ احمدیوں کے متعلق بھی بعض جگہ شکایت ہے کہ وہ با قاعدہ جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔یہاں بھی دو تین شخص ایسے ہیں جو جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے ان کے لئے بھی اور باہر کے لوگوں کے متعلق بھی کہا گیاہے کہ سختی سے انتظام کیا جائے اور اگر وہ اپنی حرکت سے باز نہ آئیں تو ان کو اس کی سزا دی جائے۔احمدیت سے الگ کرنا اور بات اور جماعت سے الگ کرنا اور بات ہے۔احمدیت سے ہم کسی کو نہیں نکال سکتے کیونکہ احمدیت تو ایمانیات اور عقائد سے تعلق رکھتی ہے اور جب تک کوئی شخص ان عقائد کا اقرار کرتا ہے اسے کس طرح نکالا جا سکتا ہے؟ لیکن جماعت سے ہم الگ کر سکتے ہیں اور اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم اعلان کر دیں کہ اس کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔پس باجماعت نماز کی پابندی کرو اور اسے بہت ضروری سمجھو۔