انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 523

۵۲۳ دوسرا اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ الہام میں لفظ تذبحان کا ہے مگر ان دونوں مقتولوں میں ایک تو گلا گھونٹ کر مارا گیا اور دوسرے صاحب سنگسار کئے گئے- پس یہ بات درست نہ نکلی کہ دو آدمی ذبح کئے گئے یہ اعتراض بھی قلت تدبر اور قلت معرفت کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے- کیونکہ ذبح کے معنے عربی زبان میں ہلاک کرنے کے بھی ہوتے ہیں- خواہ کسی طرح ہلاک کیا جائے اور قرآن کریم میں متعدد جگہ پر یہ محاورہ استعمال ہوا ہے- جیسا کہ حضرت موسیٰ کے واقعہ میں آتا ہے کہ یذبحون ابناء کم ویستحیون نساء کم تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے- حالانکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ فرعونی لوگ لڑکوں کو ذبح نہیں کرتے تھے بلکہ تو دائیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ بچوں کو مار دیں مگر جب انہوں نے رحمدلی سے کام لیا تو دریا میں پھینکنے کا حکم فرعون نے دیا- )خروج باب۱ آیت ۲۲ اور اعمال باب۷ آیت ۱۹- وطالمود( تاج المعروس میں ہے الذبح الھلاک ذبح کے معنے ہلاک کر دینے کے بھی ہوتے ہیں )جلس۲ صفحہ ۱۴۱( پس یہ اعتراض کرنا درست نہ ہو گا کہ سید عبداللطیف صاحب سنگسار کے لئے کئے گئے تھے ذبح نہیں کئے گئے- کیونکہ ذبح کا لفظ ہلاک کر دینے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے- خواہ کسی طریق پر ہلاک کیا جائے- دوسری پیشگوئی سلطنت ایران کا انقلاب دوسری پیشگوئی جو میں حضرت اقدسؑ مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی کثیر التعداد پیشگوئیوں میں سے بیان کرنی چاہتا ہوں وہ آپ کی ہمسایہ سلطنت یعنی ایران کے بادشاہ کے متعلق ہے- پندرہ جنوری ۱۹۰۶ء کو حضرت اقدسؑ مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کو الہام ہوا کہ >تزلزل در ایوان کسری فتاد< یہ الہام حسب معمول سلسلے کے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل میں شائر کر دیا گیا- جس وقت یہ الہام شائع ہوا ہے بادشاہ ایران کی حالت بالکل محفوظ تھی کیونکہ ۱۹۰۵ء میں باشندگان ملک کے مطالبات کو قبول کر کے شاہ ایران نے پارلیمنٹ کے قیام کا اعلان کر دیا تھا اور تمام ایران میں اس امر پر خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور بادشاہ مظفر الدین شاہ مقبولیت عامہ حاصل کر رہے تھے ہر شخص اس امر پر خوش تھا کہ انہوں