انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 524

۵۲۴ نے بلا کسی قسم کی خونریزی کے ملک کو حقوق نیابت عطا کر دئیے ہیں` باقی دنیا میں بھی اس نئے تجربہ پر جو جاپان کو چھوڑ کر باقی ایشیائی ممالک کے لیے بالکل جدید تھا شوق وامید کی نطریں لگائے بیٹھی تھی اور ان خطرناک نتائج سے ناواقف تھی جو نیم تعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار لوگوں میں اس قسم کی دو عملی حکومت رائج کرنے سے پیدا ہو سکتے ہین ایسے وقت میں حضرت اقدسؑ علیہ السلام کا یہ الہام شائع کرنا کہ ’’تزلزل درایوان کسی فتاد‘‘دنیا کی نظروں میں عجیب تھا مگر خدا تعالیٰ کے لیے وہ کام معمولی ہوتے ہیں جو لوگوں کو عجیب نظر آتے ہیں ایران اپنی تازہ آزادی پر اور شاہ مظفر الدین اپنی مقبولیت پر خوش ہو رہے تھے کہ ۱۹۰۷ء میں کل پچپن )۵۵( سال کی عمر میں شاہ اس دنیا سے رحلت کر گئے اور ان کا بیٹا مرزا محمد علی تخت نشین ہوا گو محمد علی مرزا نے تخت پر بیٹھتے ہی مجلس کے استحکام اور نیابتی حکومت کے دوام کا اعلان کیا` لیکن چند ہی دن کے بعد دنیا کو وہ آثار نظر آنے لگے جن کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں دی گئی تھی اور حضرت اقدسؑ علیہ السلام کے الہام کے ایک ہی سال بعد ایران میں فتنہ وفساد کے آثار نظر آنے لگے` بادشاہ اور مجلس کی مخالفت شروع ہو گئی اور مجلس کے مطالبات پر بادشاہ نے لیت ولعل کرنا شروع کر دیا- آخر مجلس کے زور دینے پر ان افراد کو دربار سے علیحدہ کرنے کا وعدہ کیا جن کو مجلس فتنے کا بانی سمجھتی تھی مگر ساتھ ہی طہران سے جانے کا بھی ارادہ کر لیا- اس تغیر مکانی کے وقت کا سکوں کی فوج جو بادشاہ کی باڈی گارڈ تھی اور قوم پرستوں کے حمائتیوں کے درمیان اختلاف ہو گیا اور الہام ایک رنگ میں اس طرح پورا ہوا کہ ایران کا دارالمبعوتین توپ خانوں سے اڑا دیا گیا اور بادشاہ نے پارلیمنٹ کو موقوف کر دیا` بادشاہ کے اس فعل سے ملک میں بغاوت کی عام رو پھیل گئی اور لاستان لابد جان` اکبر آباد` بوشہر اور شیراز اور تمام جنوبی ایران میں علی الاعلان حکام سلطنت کو برطرف کر کے ان کی جگہ جمہوریت کے دلدادوں نے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی` خانہ جنگی شروع ہو گئی اور بادشاہ نے دیکھ لیا کہ حالت نازک ہے خزانہ اور اسباب روس کے ملک بھیجنا شروع کر دیا اور پورا زور لگایا کہ بغاوت فرد ہو` مگر پھوٹ پڑی اور بختیاری سردار بھی قوم پرستوں کے ساتھ مل گئے اور شاہی فوج کو سخت شکست دی` بادشاہ نے ڈکر کر حکومت نیابتی کی حفاظت کا عہد کیا اور بار بار اعلان کئے کہ وہ استبدادی حکومت کو ہرگز قائم نہیں کرے گا مگر خدا کے وعدے کب ٹل سکتے تھے- ایوان کسریٰ میں