انوارالعلوم (جلد 7) — Page 506
۵۰۶ الا بلسان قومہ )ابراہیم ع۱ :۵) ہم کوئی رسول نہیں بھیجتے مگر اسی زبان میں اس پر کتاب نازل کرتے ہیں جو ان لوگوں کی زبان ہوتی ہے جن کی طرف وہ مبعوث ہوا ہو- پس رسول کریم ﷺجو ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تو آپ کی طرف اسی زبان میں کلام نازل ہونا چاہئیے تھا جو بوجہ ام الالسنہ ہونے کے ساری دنیا کی زبان کہلا سکے اور چونکہ آپ پر عربی زبان میں کلام نازل ہوا ہے اس لیے عربی زبان ہی ام الالسنہ ہے- آپ نے اس انکشاف کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ سے علم پاکر ایسے اصول مدون کئے جن سے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ فی الواقع عربی زبان ام الالسنہ اور الہامی زبان ہے اور باقی کوئی زبان ام الالسنہ کہلانے کی مستحق نہیں- آپ نے اس تحقیق کے متعلق ایک کتاب بھی لکھنی چاہی جو افسوس کہ نامکمل رہ گئی مگر اصل الاصول آپ نے اس میں بیان کر دئیے جن کو پھیلا کر اس امر کو دنیا کے ذہن نشین کیا جا سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میرا منشاء ہے کہ ان اصول کے ماتحت جو آپ نے تجویز کئے ہیں اور اس علم کے مطابق جو آپ نے اس کتاب میں مخفی رکھا ہے ایک کتاب تصنیف کروں جس میں بوضاحت آپ ؑکے بیان کردہ دعوے کو ثابت کروں اور اہل یورپ کے تیار کردہ علم اللسان سے جو اس دعوے کی تائید ہوتی ہے وہ بھی بیان کروں اور جہاں اہل یورپ نے ٹھوکر کھائی ہے اس کو بھی کھول دوں- وما التوفیق الا من اللہ یہ تحقیق عربی زبان کے مطابق ایک ایسی بے نظیر تحقیق ہے کہ دنیا کے نقطہ نظر کو اسلام کے مطابق بالکل بدل دے گی اور اسلام کو بہت بڑی شوکت اس سے حاصل ہو گی- ان ظاہری علوم کے علاوہ جو آپ کو دئیے گئے باطنی علوم جو انبیاء کا ورثہ ہیں- وہ بھی آپ کو عطا ہوئے اور ان علوم کے مقابلے سے سب دشمن عاجز رہے اور کوئی شخص آپ کا مقابلہ نہ رہ سکا جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں آپ کوئی جدید شریعت لیکر نہ آئے تھے بلکہ پیشگوئیوں کے ماتحت آنحضرت ﷺکے دین کی خدمت اور اشاعت کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور علوم قرآنیہ کا پھیلانا اور سکھانا آپ کا کام تھا قرآن کریم کے بعد اب کوئی نیا علم آسمان سے نازل نہیں ہو سکتا- سب علوم اس کے اندر ہیں اور رسول کریم ﷺکے بعد کوئی نیا معلم نہیں آسکتا جو شخص آئے گا آپ کے سکھائے ہوئے علوم کی تجدید کرنیوالا ہی ہو گا اور انہیں کو دوبارہ تازہ کرے گا جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک الہام ہے کل برکتہ من محمد صلی اللہ