انوارالعلوم (جلد 7) — Page 378
۳۷۸ اس کی احتیاج پوری ہو سکے اگر ایسا ہو تو انسان کی پیدائش ہی لغو ہو جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ o وَمَا خَلَقْنٰھُمَا اِلاَّ بِالْحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ ھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ o(یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان دونو کے درمیان جو کچھ ہے اس کو یوں ہی بلا وجہ بطور کھیل کے نہیں پیدا کیا بلکہ ہم نے اسے غیر متبدل اصول کے ماتحت پیدا کیا ہے ، لیکن اکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہیں۔پس حقیقت یہی ہے کہ جب کبھی بھی بنی نوع انسان کی روحانی حالت گر جاتی ہے ور کسی مصلح کی محتاج ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ایک مصلح بھیج دیتا ہے جو لوگوں کو راہ راست کی طرف لاتا ہے اور ان کی اندرونی کمزوری کو دور کرتا ہے۔گو اللہ تعالیٰ کی صفات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات عقلاً بھی نا ممکن ہوتی ہے کہ ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو لا وارث چھوڑ دے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں صراحتًا بھی بیان فرما دیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ عِنْدَناَ خَزَآئِنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ(الحجر آیت -۲۲)ہر ایک چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم اسے نازل نہیں کرتے مگر خاص اندازوں کے ماتحت۔یعنی ہر ایک چیز کو اللہ تعالیٰٰ ضرورت کے ماتحت نازل کرتا ہے نہ اس کے کام بے حکمت ہیں کہ بِلا ضرورت کسی چیز کو ظاہر کرے اور نہ اس کے ہاتھ تنگ ہیں کہ ضرورت پر بھی ظاہر نہ کر سکے۔اور اسی طرح فرماتا ہے وَاٰتٰکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہٗ ط وَاِنْ تَعُدُّ وْا نِعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْ ھَا (ابراہیم آیت -۳۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر وہ چیز جو تم نے مانگی تم کو عنایت کردی ہے۔اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔اس آیت میں مانگنے سے مراد حقیقی ضرورت ہی ہے۔کیونکہ ہر چیز جسےبندہ مانگتا ہے اسے نہیں مل جاتی، مگر یہ ضرور ہے کہ ہر ایک حقیقی ضرورت جس کی طرف احتیاج انسان کی فطرت میں رکھی رگئی ہے یا ہر احتیاج جس کا اثر انسان کی غیر محدود زندگی پرپڑ تا ہے اس کے پورا ہونے کا سامان اللہ تعالیٰٰ ضرور کرتا ہے۔یہ تو عام قانون ہے مگر ہدایت کے متعلق تو اللہ تعالیٰ خصوصیت کے ساتھ فرماتا ہے کہ جب اس کے بندے ہدایت کے محتاج ہوں تو وہ ضرور ان کے لئے ہدایت کے سامان مہیا کر تا ہے بلکہ اس نے یہ کام اپنے ہی سپرد کر رکھا ہے دوسرے کو اس میں شریک ہی نہیں کیا چنا نچہ فرماتا ہے اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی(اللیل آیت -۱۳)بندوںکو ہدایت دینا ہم نے اپنے اوپر فرض کر چھوڑا ہے اور اس کا م