انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 377

۳۷۷ صداقت ثابت ہو جائے تو اس کے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے اور اگر اس کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔پس میں اسی اصل کے مطابق آپ کے دعوے پر نظر کرنی چاہتاہوں۔تا جناب والا کو ان دلائل سے مختصراً آگاہی ہو جائے جن کی بناء پر آپؑ نے اس دعوے کو پیش کیا ہے اور جن پر نظرکرتے ہوئے لاکھوں آدمیوں نے آپکو اس وقت تک قبول کیا ہے۔پہلی دلیل ضرورت ِزمانہ سب سے پہلی دلیل جس سے کسی مأمور کی صداقت ثابت ہوتی ہے وہ ضرورت زمانہ ہے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ بے محل اور بے موقع کوئی کام نہیں کرتا۔جب تک کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اسے نازل نہیں کرتا اور جب کسی چیز کی حقیقی ضرورت پیدا ہو جائے تو وہ اسے روک کر نہیں رکھتا انسان کی جسمانی ضروریات میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے مہیا نہ کیا ہو۔چھوٹی سے چھوٹی ضرورت اس کی پوری کردی ہے۔پس جبکہ دنیاوی ضروریات کے پورا کرنے کا اس نے اس قدر اہتمام کیا ہے تو یہ اس کی شان اوراس کی رفعت کے منافی ہے کہ وہ اس کی روحانی ضروریات کو نظر انداز کر دے اور ان کے پورا کر نے کے لئے کوئی سامان پیدا نہ کرے حالانکہ جسم ایک فانی شے ہے اور اس کی تکالیف عارضی ہیں اور اسکی ترقی محدود ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی روح کے لئے ابدی زندگی مقرر کی گئی ہے اور اس کی تکالیف ایک ناقابلِ شمار زمانے تک ممتد ہو سکتی ہیں اور اس کی ترقی کے راستے انسانی عقل کی حد بندی سے زیادہ ہیں جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی صفات پر اس روشنی کی مدد سے نظر ڈالے گا جو قرآن کریم سے حاصل ہوتی ہے وہ کبھی اس بات کو باور نہیں کرے گا کہ بنی نوع انسان کی روحانی حالت تو کسی مصلح کی محتاج ہو لیکن اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے کوئی ایسا سامان نہ کیا جائے جس کے ذریعے سے