انوارالعلوم (جلد 7) — Page 348
۳۴۸ دعوة الا میر کا حضرت موسی ؑ کے واقعہ سے استدلال نہ کرنا بتاتا ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق کوئی ایسا واقعہ تھا ہی نہیں حضرات صحابہ ؓ کے اجماع کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے متعلق اہل بیت نبویؐ کا بھی اتفاق ہے- چنانچہ طبقات ابن سعد کی جلد ثالث میں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی وفات کے حالات میں حضرت امام حسن ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ ﷺ فرمایا ایھا الناس قد قبض اللیلة رجل لم یسبقہ الاولون ولا یدرکہ الاخرون قد کان رسول اللہ یبعث المبعث فیکتنفہ جبرائیل من یمینہ و میکائیل من شمالہ فلا ینشئی حتی یفتح اللہ لہ وما ترک الا سبع مائہ درھم اراد ان یشتری بھا خادما ولقد قبض فی اللیلہ التی عرج فیھا بروح عیسی بن مریم لیلہ سبع و عشرین من رمضان- یعنی اے لوگو! آج وہ شخص فوت ہوا ہے کہ اس کی بعض باتوں کو نہ پہلے پہنچے ہیں اور نہ بعد کو آنے والے پہنچیں گے- رسول ﷺ اسے جنگ کے لیے بھیجتے تھے تو جبرائیل اس کے داہنے طرف ہو جاتے تھے اور میکائیل بائیں طرف پس وہ بلا فتح حاصل کئے واپس نہیں ہوتا تھا اور اس نے صرف سات سو )۷۰۰( درہم اپنا ترکہ چھوڑا ہے جس سے اس کا ارادہ یہ تھا کہ ایک غلام خریدے اور وہ اس رات کو فوت ہوا ہے جس رات کو عیسی بن مریم کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی تھی یعنی رمضان ستائیسویں تاریخ کو- اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے نزدیک بھی حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے تھے کیونکہ اگر ان کا خیال نہ ہوتا تو امام حسن ؓ یہ کیوں فرماتے کہ جس رات حضرت عیسی ؑ کی روح آسمان کو اٹھائی گئی تھی` اسی رات کو حضرت علی رصی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ہے- صحابہ کرام اور اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بعد کے بزرگ بھی ضرور وفات مسیح ؑ کے ہی قائل ہوں گے کیونکہ وہ لوگ قرآن مجید اور کلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوال صحابہ اور آرائے اہل بیت کے شیدا تھے` اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اقوال خاص طور پر محفوظ نہیں رکھے گئے` لیکن جو کچھ بھی پتہ چلتا ہے وہ اسی امر کی تصدیق کرتا ہے کہ ان کا مذہب بھی یہی تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہو گئے ہیں` چنانچہ مجمع البحار میں ہے کہ قال ما لک مات یعنی امام مالک رحمتہ اللہ فرماتے ہیں