انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 349

۳۴۹ دعوة الا میر کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں- غرض قرآن کریم اور احادیث کے علاوہ اجماع صحابہ ؓ اور آرائے اہل بیت اور اقوال آئمہ سے بھی ہمارے ہی خیال کی تصدیق ہوتی ہے- یعنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے` پس ہم پر یہ الزام لگانا کہ ہم حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ رکھ کر حضرت مسیح علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں اور قرآن کریم اور احادیث آنحضرت ﷺکا انکار کرتے ہیں درست نہیں- اور اس کے رسول کی عزت کو ثابت کرتے ہیں- اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی خدمت کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی کبھی پسند نہیں گے کہ ان کو ایک ایسے مقام پر جگہ دی جائے کہ جس سے توحید باری تعالیٰ کو صدمہ پہنچتا ہو اور شرک کو مدد ملتی ہو اور سرور انبیاء ﷺکی ہتک ہوتی ہو- اب اے بادشاہ! آپ خود ہی غور کرکے دیکھ لیں کہ کیا ہمارے مخالف اس اعتراض میں حق پر ہیں یا ہم؟ کیا ان کا حق ہے کہ ہم سے ناراض ہوں یا ہمارا حق ہے کہ ان سے ناراض ہوں کیونکہ انہوں نے ہمارے خدا کا شریک مقرر کیا اور ہمارے رسول کی ہتک کی اور اپنے بن کر دشمنوں کی طرح حملہ آور ہوئے- دوسرا اعتراض ہم پر یہ کیا جاتا ہے کہ ہم لوگ دوسرے مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف اسی امت میں سے ایک شخص کو مسیح موعود مانتے ہیں حالانکہ یہ امر احادیث نبوی کے خلاف ہے کیونکہ ان سے معلوم ہوتا ہے کا حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے- یہ بالکل درست ہے کہ ہم لوگ بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد صاحب ساکن قادیان ضلع گورداسپور صوبہ پنجاب ملک ہندوستان کو مسیح موعود اور مہدی مسعود سمجھتے ہیں` مگر جبکہ قرآن کریم اور احادیث اور عقل سلیم سے یہ امر ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو پھر ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارا یہ عقیدہ قرآن کریم اور احادیث بھی اس پر شاہد ہیں اور جبکہ احادیث نبویہ سے ایک موعود کی جسے ابن مریم کہا گیا ہے آمد کی خبر معلوم ہوتا ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا موعود اسی امت کا ایک فرد ہوگا نہ کہ مسیح ناصری علیہ السلام جو فوت ہو چکے ہیں-