انوارالعلوم (جلد 7) — Page 309
۳۰۹ کہ دوسروں کو اپنے اندر داخل کریں تو وہ بہ نسبت اس کے جلدی مسلمان بنا لئے جائیں گے کہ وہ پہلی حالت میں رہتے۔پس میں شدھی کی تحریک پر ناراض نہیں ہوں اور نہ اسے ناپسند کرتا ہوں ہاں اس کے لئے جو ناجائز ذرائع اختیار کئے گئے ہیں ان کو ضرور ناپسند کرتا ہوں۔شدھی کا باقاعدہ مقابلہ سب سے پہلے ہم نے شروع کیا چونکہ میں وہ انسان ہوں جس نے سب سے پہلے شدھی کے مقابلہ میں باقاعدہ کمانڈر مقرر کیا جس کے ماتحت ہروقت کم از کم ایسے سو آدمی کام کررہے ہیں کہ جس کو وہ جہاں کھڑا کرے وہیں کھڑے رہتے ہیں اور جہاں بٹھاۓ وہیں بیٹھے رہتے ہیں خواہ کیسی ہی مشکلات اور تکالیف ان کو پیش آئیں اس لئے شدھی کے متعلق جو حالات مجھے معلوم ہیں وہ اور کسی کو معلوم نہیں ہیں۔بعض لوگوں نے اس تحریک میں بھی ناجائز ذرائع استعمال کئے پھر میں نے ’’بعض ‘‘کہا ہے کیونکہ بعض ہندو شدھی کے خلاف بھی ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ اگر ان کو ان ذرائع کا علم ہو تو انہیں ناپسند کریں گے۔ہندوؤں نے شدھی میں ناجائز ذرائع اختیار کئے ذرائع کئے تو بعض نے ناجائز ذرائع استعمال کئے وہ ذرائع کیا تھے وہ کئی قسم کے تھے مثلاً (۱) اس بات پر لیکچردیئے گئے کہ مسٹر گاندھی کو مسلمانوں نے اپنالیڈ رمان لیا ہے اور یہ بات اس قدر مشہور ہو چکی تھی کہ وہ لوگ جو پہاڑوں میں رہتے ان تک بھی پہنی ہوئی تھی اس لئےملکانے بھی تسلیم کر لیتے کہ ہاں مسلمانوں نے مسٹر گاندھی کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔پھر ان کو کہا جاتا انہوں نے کہا ہے کہ تب تک ہندوستان کی حکومت نہیں مل سکتی جب تک تمام ہندوستانیوں کا ایک مذہب نہ ہو جائے۔اس امر کے لئے سب سے پہلے ان راجپوتوں کو اپنے ساتھ ملانے کی تجویز کی گئی ہے جو پہلے ہندو تھے۔اب یہ بات جب ان لوگوں نے سنی جو عام طور پر جاہل اور ناواقف تھے تو وہ ہندو بننے کے لئے تیار ہو گئے اور انہوں نے کہہ دیا کہ ہمیں ہندو بننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔دوسرا ناجائز طریق یہ اختیار کیاگیا کہ مسلمانوں کے بزرگوں کے جھوٹے مظالم ان لوگوں کو سنانے شروع کردیئے اور انہیں کہا گیا کہ مسلمان بادشاہوں نے تم کو زور اور جبر سے اور تمہارے باپ دادا کے گلے پر تلوار رکھ کر ان کو مسلمان بنایا تھا اب جبکہ انگریزوں کی حکومت ہے اور کوئی تم پر جبر نہیں کر سکتا تو تمہیں چاہئے کہ پھر ہندو بن جاؤ۔اب جو مسلمان ہی دیکھے گا کہ