انوارالعلوم (جلد 7) — Page 278
۲۷۸ بجائے تمہارا آریہ ہو جانا اچھا ہے۔گو ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو ان میں کوئی بری بات نہیں دیکھتے اور نہ یہ ہمیں کوئی بری بات بتاتے ہیں مگر مولویوں نے کہان سے بات کرنا بھی کفر ہے اور یہ کفر بھی ایسا ہے کہ آریہ ہو جانے سے بد تر ہے اس لئے باتو تم سب آریہ ہو جاؤ یا اگر اسلام پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ان کو اپنے گاؤں سے نکال دو۔اس طرح یہ دوسرا فتنہ ہمارے لئے پیدا ہو گیا۔اس پر ہمیں ان لوگوں کو سمجھانا پڑا کہ ہم مسلمان ہیں خدا تعالی ٰکو ایک مانتے ہیں رسول کریم ﷺ کی رسالت کے قائل ہیں قرآن کریم کو مانتے ہیں۔پس پہلے وفد نے اگر ملکانوں کے دلوں سے یہ شبہات مٹاۓ کہ ہم تمہیں چھوڑ کر نہیں چلے جائیں گے تو دوسرے وفد نے یہ شکوک دور کئے کہ ہم تم لوگوں کو مسلمان بنانے آئے ہیں کافر بنانے نہیں آئے۔پھر تیسرا وفد جس وقت گیا اس وقت موقع تھا کہ اس کی ضرب کا اثر پڑے اور نتیجہ نکلے یعنی وہ لوگ اسلام قبول کر لیں کیونکہ ایسے سامان خدا تعالیٰ نے پیدا کررہے تھے۔تیسری سہ ماہی کے وفد کے روانہ ہونے کے وقت میں نے جو تقریر کی تھی اس میں اس طرف اشارہ بھی کردیا تھا اور جانے والوں کو بتا دیا تھا کہ اگر تم پورے زور اور اخلاص سے کام کرو گے تو تمہارے لئے فتوحات کے دروازے کھل جائیں گے چنانچہ خدا تعالیٰ نے میری بات پوری کردی اور اس وقت تک دو بڑے گاؤں میں جن میں سے ایک اپنی شرافت کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے اور دوسرا آثار قدیمہ کی وجہ سے ملکانوں میں عام رتبہ رکھتاہے ان کا اکثر حصہ اسلام میں واپس آگیا ہے یعنی ایک تو آنور کا قصبہ ہے جس کے قریب کرشن جی پیدا ہوئے تھے۔وہاں ایک پہاڑی ہے جس کو مقدس سمجھا جاتا ہے اس کے پاس دور دور سے لوگ آتے اور بعض لیٹ لیٹ کر اس کے گرد چکر لگاتے ہیں توان آثار کو ملکانے قد ر اور عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔دوسرا گاؤں جس کے لوگ شرافت کے لئے اور فہمیدہ ہونے کے لحاظ سے عزت رکھتے ہیں اسپارہے۔اس کا بھی بڑا حصہ اسلام کو قبول کر چکا ہے اور یہ اب عام رو چل گئی ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی دقتیں بھی پیدا ہو گئی ہیں اور وہ یہ کہ جو جماعتیں وہاں آریوں کے خلاف لڑ رہی تھیں ان میں مزید بھرتی کی طاقت نہیں رہی اور عین اس وقت جبکہ فتوحات ہورہی ہیں ہمارے دائیں سے بھی اور بائیں سے بھی لوگ ہٹنے شروع ہو گئے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ کام جنگی طریق سے ہو رہا ہے اور جس طرح جنگ میں لڑنے والے فوج کے دائیں اور بائیں سے ہٹنے والوں کی