انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 279

۲۷۹ وجہ سے اس کو نقصان پہنچتا ہے اسی طرح یہاں ہمارے لئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں کیونکہ ان علاقوں کو جہاں دوسرے مولوی کام کر رہے تھے انہوں نے چھو ڑنا شروع کردیا ہے۔بعض نے تو اپنے آدمی کم کردیئے ہیں بعض جماعتوں کے آدمیوں کا کام صرف کھا ناپینایاہنسی مذاق کر کے وقت گذار د ینا رہ گیا ہے بعض جماعتوں کے اوپر کے کام کرنے والے تھک گئے ہیں اور وہ اپنا قدم پیچھے ہٹارہے ہیں۔اس طرح ہمارا دایاں بازو خالی ہو رہا ہے اور بایاں بھی مگر ہم سمجھتے ہیں خدا کے فضل سے درحقیقت ہمارے لئے یہ مشکلات نہیں بلکہ کامیابی کے ذرائع ہیں کیونکہ جب اور لوگ تھک کر آجائیں گے تو اسوقت ہمیں جو کامیابی ہوگی وہ اور بھی نمایاں ہو گی۔پس دوسرے لوگوں کا تهک کرپیچھے ہٹ جانا اور مشکلات سے گھبرا کر کام کو چھوڑ دینا کر نے گھبراہٹ کا موجب نہیں ہو سکتا۔ہاں اگر گھبراہٹ ہو سکتی ہے تو یہ کہ جس قدر کام کرنے والوں کی ضرورت ہے اس قدرنہ مل سکیں اور میں دیکھتا ہوں کہ لوگ آپ پہلے کی طرح جوش و خروش کے ساتھ آگے نہیں بڑھتے۔بعض تو کہتے ہیں یہ لمبا کام ہوگیا ہے ہم کب تک اسے کرتے رہیں گے مگر یاد رکھو مومن کا یہ حال نہیں ہوتا کیونکہ مومن کے لئے دنیا میں آرام کرنے کی کوئی صورت نہیں۔مومن کا آرام اس کی موت کے بعد ہی ہے او راسی کا نام مستقرہے۔مومن کی منزل مقصود مرنے کے بعد ہی ہے۔پس جب یہ صورت ہے تو خود سوچ لو کہ جو خاص منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے بیٹھ جاتا ہے وہ کب منزل تک پہنچ سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص نے بٹالہ جانا ہو مگر وہ وڈالہ جا کر بیٹھ رہے تو ناکام ہی رہے گاہاں جو شخص وڈالہ جانا چاہتا ہے وہ اگر وہاں جا کر بیٹھ جاتا ہے تو وہ منزل پر پہنچ گیا اور بٹالہ جانے والا و ڈالہ پہنچ کر نہیں کہہ سکتا کہ فلاں جویہاں پہنچ کر اپنے مقصد میں کامیاب سمجھا گیا تو مجھے کیوں نہ کامیاب سمجھا جائے کیونکہ اس کی منزل مقصودو ڈالہ ہے نہ کہ وڈالہ اسی طرح جب مومن کا مقصد یہ ہے کہ خدا تعالی ٰمل جائے اور وہ اس طرح مل سکتا ہے کہ انسان مرنے تک اس کے ملنے کے لئے کام کرنا جائے تو وہ شخص جو مرنے سے پہلے اس کام کو چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے وہ کس طرح خدا تعالی ٰکو مل سکتا ہے۔پس یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ مومن کے لئے یہ دنیا آرام کرنے کی جگہ نہیں اس کے لئے آرام کی جگہ وہی ہے جب اس کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ اسے بلا لیتا ہے کہ آاور آکر میرے فضل کے نیچے آرام کر۔جو لوگ اس کام کے متعلق سست ہوئے اور پیچھے ہٹ رہے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ان کے ایمان