انوارالعلوم (جلد 7) — Page 211
۲۱۱ یہ جماعت مشتمل ہے اور میں اللہ تعالیٰ ٰکے فضل پر بھروسہ رکھتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ یہ لوگ جو اس طرح قربانی کر کے اپنے گھروں سے نکلیں گے نہایت اخلاص اور سچائی سے کام کریں گے اور ان کا اخلاص دوسرے لوگوں کے دلوں پراثر کے بغیر نہیں رہے گا۔اس جماعت سے اکیس آدمی اس کام کیلئے میں روانہ کر چکا ہوں اور دو آدمی براہ راست اس وفد کے ساتھ جا کر شامل ہو چکے ہیں گویا اس وقت تئیس آدمی اس ہماری جماعت کی طرف سے اس میدان مقابلہ میں کام کر رہے ہیں۔چند دن تک انشاء اللہ چالیس یا پچاس آدمی اور روانہ کیا جائے گا وما توفيقي إلا بالله العلى العظيم روپیہ کے متعلق بھی میں نے سردست قادیان کی جماعت میں تحریک کردی ہے اور یہاں کا چندہ کسی قدر باہر کے چود سے ملا کر جوبلا تحریک آیا ہے ساڑھے چار ہزار تک پہنچ گیا ہے۔چونکہ مارچ کے آخر اور اپریل کے اول ایام میں ہماری جماعت کی مجلس شوری ہوگئی میں نے عام چنده کی اپیل کو اس وقت تک کیلئے ملتوی رکھا ہے تاکہ یہ معلوم کریں کہ آیا ایک ایک سو ۱۰۰ کی رقم ڈال کر ذی استطاعت لوگوں سے یہ چندہ وصول کرنا زیادہ مناسب ہو گا یا ہے کہ عام جماعت میں تحریک کی جائے مگر میں امید کرتا ہوں کہ انشاء الله اپریل میں ایک معقول رقم اس کام کیلئے ہم لوگ جمع کر لیں گے۔ان واقعات کے لکھنے کے بعد میں ان تمام لوگوں کو جو اس کام سے دلچسپی رکھتے ہیں تو جہ ولا تاہوں کہ سستی کا وقت نہیں۔جہاں تک ہو سکے جلد کام کیلئے نکلیں کہ اس وقت کی غفلت صدیوں تک خون کے آنسو رلائے گی اور کوئی تعجب نہیں کہ مسلمانوں کو خدانخواستہ سارے ہندوستان میں یا اس کے بعض حصوں میں اسپین و الارو زبددیکھنا نصیب ہو۔برادران ِوطن کے ارادے ظاہر ہیں وہ اس امر کا فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہندوستان میں جائز و ناجائز طریقوں کو استعمال کر کے ایک ہی مذہب قائم رکھا جائے اور وہ ہندو وھرم - مسلمان اخبارات اس حالت کو دیکھ کر شور مچارہے ہیں لیکن عملی کاروائی اب تک کوئی نہیں کرتا۔جہاں تک اخبارات سے معلوم ہوتا ہے سارے ہندوستان کا چند مل کر آریوں کی کل جماعت کے چندہ کے برابر بھی نہیں ہے بلکہ بغیر تحریک کے احمدی جماعت میں جس قدر چندہ ہو گیا ہے اس کے برابر بھی دوسرے لوگوں کا چنده نہیں ہوا۔یہی حال مبلغوں کا ہے۔شد ھی کا شور سنتے ہی سینکڑوں لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے اب سب پراگندہ ہو چکے ہیں چند ایک آدمی قوم کی اشک شوئی کیلئے وہاں موجود ہیں۔