انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 212

۲۱۲ ساند ھن کی پنچایت ایک مبارک تحریک تھی اور اس کا فوری نتیجہ راجپوتوں پر بہت اچھا ہوا۔مگر جبکہ اس پنچایت کے اثر سے شدھی کی تیز رو میں کچھ رکاوٹ پیدا ہوئی اس سے تین خطرناک نتیجے بھی پیدا ہو گئے ہیں (۱) بہت سے لوگ اس کانفرنس کا حال پڑھ کر سست ہو گئے ہیں بلکہ اس میں شامل ہونے والے بعض لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ سب کچھ کر چکے ہیں حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ شدھی سینکڑوں کی تعداد میں اب بھی جاری ہے ماده اسی طرح موجود ہے پھرخالی تلوے سہلا دینے سے مرض کس طرح دور ہو سکتی تھی۔جو لوگ واپس ہوئے تھے ان میں سے بھی بعض واپس ہونے سے انکاری ہیں اور پھر جنیو پہنے پھر رہے ہیں۔(۲) کام کرنے والے لوگوں میں آپس میں اختلاف ہو گیا ہے۔صدارت اور بریزیڈ نسی کا جھگڑا ایک لانیخل عُقدہ بن گیا ہے۔نام و نمود کا سوال بلاۓ بیدرمان کی طرح پیچھے پڑ رہا ہے۔انجمن نمائندگان سے بعض انجمنیں خود جدا ہو چکی ہیں اور بعض کو خود انہوں نے اپنے میں سے الگ کر دیا۔(۳) آریہ لوگ ہوشیار ہو گئے ہیں کہ ابھی ملکانہ قوم میں ایک عنصرایسا موجود ہے جو اس تحریک سے پورا متاثر نہیں اس لئے ان کی کوششیں پھر زیرِ سطح چلی گئی ہیں اور اخفاء کی چادر انہوں نے اوڑھ لی ہے۔نہ وہ اس قدر نمائش سے کام کرتے ہیں نہ شد ھی کا پورا حال بتاتے ہیں جس طرح پہلے کرتے تھے لیکن ان کی کوششیں آگے سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں اور وہ اس کام کو زیادہ مضبوطی کے ساتھ کرنے کی فکر میں ہیں۔انہوں نے اس مقصد کی تکمیل کیلئے کل ہندو فرقوں میں اتحاد پیدا کرنے کا سوال نہایت زور سے اٹھادیا ہے اور اس تحریک سے ہرممکن فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔سناتنی چینی آریہ وغیرہ مسلمانوں میں یہ خطرناک سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ یہ لوگ بنیں گے کیا۔سنی بنیں گے شیعہ بنیں گے ' چکڑالوی بنیں گے، احمدی بنیں گے۔آخر کیا بنیں گے ؟ مگر آہ کوئی نہیں سوچتا کہ جب تک ان جھگڑوں کا فیصلہ ہوتا رہے گا اس وقت تک یہ قابل رحم لوگ جن پر مسلمانوں کے دست تغافل سے پہلے ہی بہت کچھ ظلم ہو چکا ہے محمد رسول اللہﷺ کو گالیاں دینے والے اور قرآن کریم کی ہتک کرنے والے اور خدائے واحد کے نام پر ہنسی اڑانے والے بن جائیں گے۔کیا ان کے لئے اس قدر کافی نہیں کہ وہ مسلم کہلائیں گے اور مالک ارض وسما کی عبودیت کا دم بھریں گے، محمد رسول اللہ کی رسالت کا اقرار کریں گے، احمدی، حنفی،اہل حدیث، شیعہ‘ چکڑالوی نیچری جو کچھ بنیں گے اس سے اچھے رہیں گے جو وہ اب بن رہے ہیں اور جو کچھ وہ بن جائیں گئے اگر جلد ان جھگڑوں کو بالائے طاق نہ رکھ دیا گیا۔