انوارالعلوم (جلد 7) — Page 176
۱۷۶ کہ ہمارے ہاں خدا کو باپ قرار دے کر انسان اور خدا میں ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم کردیاہے مگر یہ دعویٰ باطل ہے کہ کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے خدا تعالیٰ کو اس قسم کے نام سے یاد نہ کیا ہو۔چنانچہ مختلف مثالیں دیتے ہوئے میں نے بتایا کہ ہندوؤں میں خدا تعالیٰ کو ماں سے تشبیہ دی گئی ہے اور ماں کا رشتہ باپ سے زیادہ محبت کا ہوتا ہے۔اور پھر بتایا کہ اسلام نے خدا تعالیٰ کو خودباپ اور ماں تو نہیں کہا کیونکہ یہ الفاظ اس حقیقی تعلق کو نہیں بتاتے جو بندہ اور خدامیں ہونے چاہیں لیکن یہ ضرور بتاتا ہے کہ خدا تعالی ٰکا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور اس تعلیم میں اسلام مسیحیت اور ہندو مذہب دونوں سے بہت بالا ہے۔اس پر ایک مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر شور مچا دیا کہ یہ بات کہاں لکھی ہے اس کا حوالہ دو۔ایک جماعت امرتسر کے لوگوں کی ان کے ساتھ مل گئی اور لیکچر گاہ میں شور پڑگیا۔باوجو د بار بار سمجھانے کے مولوی صاحب باز نہ آۓ اور انہوں نے لوگوں کو اکسانا شروع کردیا کہ اس جگہ بیٹھو ہی نہیں فوراًیہاں سے چل دو اورنہ جانے والوں پر فتوے لگانے شروع کئے مسلمانوں میں سے تو کئی لوگ اٹھ کر چلے گئے۔مگر ہندو لوگ بیٹھے رہے۔اس پر ایک مولوی صاحب نے بڑے زور سے کہنا شروع کیا کہ اسے ہندوؤ! تمہیں شرم نہیں آتی کہ یہ تمہارے مذہب کی ہتک کر رہاہے اور پھر تم یہاں بیٹھے ہو وہ ہتک کیا تھی وہ میرا یہ فقرہ تھا کہ اسلام کی تعلیم اس بارے میں مسیحیت بلکہ ہندومذہب سے بھی اعلی ٰہے۔سینکڑوں مسلمان وہاں موجود تھے مگر کسی نے اس بات کو برا نہ منایا نہ کسی اخبار نے اس بے ہودگی پر نوٹس لیا۔کیوں؟ آہ! صرف اس لئے کہ ہماری مخالفت میں اگر اسلام کو بھی قربان کرنا پڑے تو اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ایک مثال بالکل تازہ ہے۔ابھی دہلی میں ہمارا جلسہ ہوا ہے اور جس تاریخ کو وکیل نے ہمیں اس امر کی دعوت دی ہے کہ ہم اسلام کی حفاظت کے لئے باہر نکلیں اسی تاریخ دہلی میں ہمارا ایک مباحثہ آریوں سے ہو رہا تھا۔اس دن ہماری مخالفت کے نشہ میں سرشار مسلمان کہلانے والوں کی ایک جماعت آریہ واعظ کے ساتھ مل کر پنڈال میں داخل ہوئی اور اس کی تائید کے لئے ڈنڈے اور سوٹے ساتھ لائی - مباحثہ کے شروع میں ایک نظم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی پڑھی گئی جس میں آریوں کی اس دشنام دہی کا ذکر ہے جو وہ تمام بانیان مذاہب کے متعلق کرتے ہیں اور اس کا ایک شعر ہے