انوارالعلوم (جلد 7) — Page 175
۱۷۵ نہیں کر سکتے کیونکہ جب وہ ہمارا اور صرف ہمارا کام ہے اور اس کام پر ہمارے آقا اور ہمارے خالق نے ہمیں خود مقرر فرمایا ہے تو دوسروں کی بد سلوکی ہم پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔مگر ہمیں اس امر پر افسوس ضرور آتا ہے کہ ایک طرف تو زمانہ کی نازک حالت کو محسوس کیا جاتا ہے مگر دوسری طرف ہماری مخالفت یا ہمارے مخالفوں کاڈر بہت سے لوگوں کو حق کے کہنے سے باز رکھتا ہے۔کاش کہ مسلمان اس نازک حالت کو محسوس کر کے اپنی اندرونی اصلاح کریں اور ان کے دل اس صلاحیت کو اختیار کر لیں جس سے اللہ تعالیٰ ٰکی نصرت ملتی ہے اور اس کا فضل جذب کیا جاتا ہے۔فتنہ ارتداد اور ہم اس ضمنی بات کے بیان کردینے کے بعد جس کا بیان کرنا ایک تو اس غلط فہمی کے دور کرنے کے لئے ضروری تھا جو وکیل کے منقولہ بالا فقرہے پیدا ہوتی تھی اور دوسرے خود مسلمانوں کی روحانی حالت کی اصلاح کی طرف توجہ دلانے کے لئے ضروری تھا اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں ان رپورٹوں ہے جو ہمارے وفد نے بھیجی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ سے اور بعض خاص طریقوں کے اختیار کرنے سے جن کا بیان کرنا اس جگہ مناسب نہیں آریوں نے ملکانہ قوم پر ایک خاص اثر پیدا کر لیا ہے۔اور اس قوم کی حالت نازک ہے دو ہزار کے قریب لوگ شدھ ہو چکے اور باقی لوگ باوجود سمجھانے کے رکتے ہوئے نظر نہیں آتے۔میں نے اس قوم کی حفاظت کے لئے جس کی تعداد لاکھوں تک پہنچی ہوتی ہے ایک خاص سکیم سوچی ہے جس پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ ٰکے فضل سے امید ہے کہ ایک حد تک فتنہ کی تو موجودہ حالات کے باوجود بھی روکی جاسکتی ہے اور کچھ عرصہ کے بعد اس کا بد اثر اللہ تعالیٰ ٰکے فضل کے ماتحت کلی طور پر دور کیا جاسکتاہے بلکہ یہی فتنہ اسلام کے لئے موجب رحمت ہو سکتا ہے۔مگر جیسا کہ پچھلا تجربہ بتاتا ہے ہمارے لئے اس سکیم پر عمل کرنا بہت سی مشکلات رکھتا ہے۔ہم نے اس وقت تک جو پورے طور پر اس کام پر ہاتھ نہیں ڈالا اور جو بات اب بھی ہمیں روک رہی ہے یہ ہے کہ جس وقت ہمارے کارکن اس کام کی غرض سے میدان میں آئے تمام مسلمان کا رکن آریوں اور ملکانوں کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے پڑ جاویں گے اور بجائے فائدہ کے سخت نقصان پہنچے گا۔ہماری بے جامخالفت یہ بات میں یونہی نہیں لکھتا۔لمبا تجربہ اسی پر شاہد ہے ایڈیٹر صاحب وکیل کے گھر کاواقع ہے۔دو سال ہوئے میراامرتسر میں لیکچر ہوا۔لیکچر کا مضمون مسیحیت کے خلاف تھا دورانِ لیکچر میں نے یہ امر بیان کیا کہ مسیحیت کو اس امر پرنازہے