انوارالعلوم (جلد 7) — Page 120
۱۲۰ چونکہ صدوقی فرقہ ایک سیاسی فرقہ تھا اس لئے یہودیت کی تباہی کے ساتھ وہ مٹ گیا۔ہندومذہب (۴) چوتھا ہندو مذہب ہے۔دراصل یہ کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے آنے سے پہلے جو لوگ ہندوستان میں موجود تھے وہ ہندو کہلاتے تھے ان میں موٹے موٹے فرقے یہ ہیں۔سب سے زیادہ اور سب سے قدیم سناتن و کرم ہے کہ بہت پرانامذہب ہے اور وید پر یقین رکھتے ہیں اور اس کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں۔ان کا عقیدہ ہے کہ وید کے بعد کوئی نئی شریعت اور کتاب نہیں آئی ہے بلکہ اوتاروں کے ذریعہ وید کا علم آتا ہے۔کرشن اور رام چندر کو او تار مانتے ہیں۔اس مذہب کا زیاده مداربت پرستی پر ہے اور تین بڑے دیو تابرہما ،وشنو اور شو کو مانتے ہیں اور بھی چھوٹے چھوٹے بہت سے دیو تاؤں کو مانتے ہیں مگر سب سے بڑے یہی ہیں۔آگے پھر ان میں مذہبی فرقے ہیں۔بعض برہما کو بڑا بتاتے ہیں اور بعض وشنو کو اور بعض شو کو۔برہما پیدائش کا دیوتا ہے‘شو آرام اور دولت کا، اور دشنو ہلا کت کایعنی موت کا۔پھر ان فرقوں میں ایک اہم فرقہ ہے جو کرشن جی کو ماننے والا ہے وه و ید کو خاص طرزپرمانتے ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ کرشن جی نے گیتا میں جو کچھ بیان کیا ہے وہ وید کو پڑھ کر نہیں آتا اس لئے وہ گیتاہی کو پڑھتے ہیں۔وہ گیتا کے علم کو مکمل سمجھتے ہیں اور ویدوں پر اس کو فضیلت دیتے ہیں اس لئے وہ ایک نیاہی فرقہ ہے۔پھر ایک اور فرقہ ان میں ویدانتی یا ویدانت کہلاتا ہے۔اس فرقہ والے سمجھتے ہیں کہ سب کچھ خداہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ دنیا کو ایک خدا کا خیال ہے اور ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ سب کچھ ہمیشہ سے ہے۔اور اگر یہ ہمیشہ سے نہیں تو پھر کہاں سے آگیا۔پس یہ خد اکاخیال ہے اور در حقیقت یہ کچھ نہیں۔پھر ایک فرقہ وام مارگ ہے ان کا عقیدہ عملی طور پر یہ ہے کہ ساری روحانی ترقی عیاشی پر موقوف ہے۔یہ لوگ کثرت سے پھیلےہؤئے ہیں۔پھر ایک مذہب آریہ مذہب ہے یہ او تاروں کو نہیں مانتے اور یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا تعالی ٰنے روح اور مادہ کو پیدا نہیں کیا بلکہ یہ دونوں چیزیں بھی ہمیشہ سے مستقل طور پر ہیں۔اپنے وجود کے لئے خدا تعالی ٰنے ان چیزوں کو لے کر جوڑ جاڑ دیا جس طرح کمہار مٹی لے کر برتن بنادیتا ہے۔اور یہ مذہب نجات کے متعلق کہتا ہے کہ جو کچھ ملتا ہے وہ صرف کرموں کا پھل ہے اور اس کو تناسخ یا آواگون کا عقیده بتاتے ہیں کہ انسان بار بار اپنے عملوں کی جزا سزا بھگتنے کے لئے اسی دنیا میں بار بار آتارہتا ہے اور کبھی اس کو ہمیشہ کی نجات نہیں مل سکتی۔