انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 118

۱۱۸ کے چار بڑے فرقے اصول کے لاظ سے ہیں۔اول۔رومن کیتھولک:۔ان کا عقیدیہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے خلیفہ پیٹر (پطرس) تھے۔پطرس حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری اور خلیفہ تھے اس کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روم میں رہے۔وہ ( کیتھو لک) کہتے ہیں کہ جب روم میں گئے تو ان کو قائم مقام مقرر کیا تھا اس لئے وہ ان کا خلیفہ تھا۔روم کے پادریوں کا سب سے بڑا افسر جس کو پوپ کہتے ہیں اس کو وہ پطرس کا جانشین اور خلیفہ سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ باقی جس قدرپادری ہیں وہ اس کی اطاعت کریں۔اگر وہ اس کی اطاعت نہیں کرتے تو مسیح کی بھی نہیں کرتے۔غرض وہ حضرت مسیح کی خلافتِ متواترہ کا اقرار کرتے ہیں۔میں اس وقت یہ بحث نہیں کروں گا کہ یہ غلط ہے یا صحیح بلکہ مجھ کو تو صرف یہ بتا ناہے کہ یہ بھی ایک علم ہے۔پھر وہ لوگ حضرت مریم کی طرف بھی کچھ خدائی صفات منسوب کرتے ہیں اور بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب کوئی بزرگ مرجاتا ہے تو اس کی قبر یا لاش سے دعا کرتے ہیں۔سائنس کے طریق پر بعض لاشوں کو محفوظ رکھتے ہیں اور بزرگوں کی قبروں پر یا جہاں انہوں نے دعائیں کی ہوں جاتے ہیں۔انتظامی طور پر وہ خلیفہ کو مانتے ہیں اور مذہبی لحاظ سے ان کا خیال ہے کہ حضرت مسیح ؑ اور مریم اور دوسرے بزرگوں کی قبریا مقامات مقدسہ پردعاکی جائے تو قبول ہوتی ہے۔ان میں ایک رسم عشاءِ ربانی کی ہے۔کہتے ہیں کہ مسیح نے اپنی گرفتاری سے پہلے شراب یا انگور کا رس اور روٹی کا ٹکڑالے کرپیا اور حواریوں کو دیا اور اس کی تعبیرا پنے گوشت اور خون سے کی۔یہ اس کی نقل کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں یعنی وہ ڈبل روٹی کو گوشت اور شراب کو اس کا خون یقین کرتے ہیں رومن کیتھو لک کے ماتحت بہت بڑا علاقہ ہے اور رومن کیتھو لک پرانے طریق کے عیسائی ہیں۔دوسرا فرقہ گریک چرچ (Greek Church) ہے گریک چرچ کے معنے ہیں یونانی گرجا۔یہ لوگ پانچویں مسیحی میں جدا ہو گئے۔یو نانیوں میں بت پر ستی زیادہ تھی یہ لوگ رومیوں کے اس خیال کو صحیح نہیں سمجھتے کہ پوپ مسیح قائم مقام ہے اس لئے وہ پوپ سے الگ ہوگئے۔ان کا بڑا پادری پٹیری یادک کہلاتا ہے جو قسطنطنیہ میں رہتا ہے اس کو بھی پوپ کی طرح و ہ مسیح کا قائم مقام نہیں سمجھتے۔